Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اور امریکہ جنگ باقاعدہ ختم ، معاہدہ پر ٹرمپ اور پزشکیان نے دستخط کردئیے

Updated: June 18, 2026, 11:25 PM IST | Paris

ٹرمپ نے پیرس میں جی سیون اجلاس کے دوران دستخط کئے، ماہرین کے مطابق یہ ایران کی فتح ہے کیوں کہ اس نے اپنے تقریباً تمام مطالبات منوالئے

Trump showing the document after signing the agreement. Macron with him. (PTI)
ٹرمپ معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد دستاویز دکھاتے ہوئے۔ ساتھ میں میکرون ۔(پی ٹی آئی )

امریکہ اور ایران نے  جنگ باقاعدہ طور پر ختم کرنے کیلئے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کر د ئیے ہیں۔اس معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ نے فرانس کے صدر میکرون کے ساتھ ملاقات کے دوران پیرس کے ورسلز پیلس میں دستخط کئےجبکہ ایران کے صدر پزشکیان نے تہران میں اس پر دستخط  کئے۔ واضح رہے کہ ورسلز پیلس وہی محل ہے جہاں جرمنی نے پہلی عالمی جنگ ہارنے کے بعد معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ ٹرمپ نے معاہدہ کو امریکہ کی فتح قرار دیا۔ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اب ہم ایران کو کروز میزائل رکھنے سے نہیں روک سکتے کیوں کہ کئی ممالک کے پاس یہ میزائل ہیں۔ ماہرین اسے ایران کی واضح فتح قرار دے رہے ہیں کیوں کہ اس نے امریکہ سے اپنی تقریباً تمام شرطیں منوالی ہیں ۔ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ کے۱۴؍ نکات جاری ہوئے ہیں  جو درج ذیل ہیں: 
۱)ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونگے۔ 
 ۲)  امریکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کیلئے حتمی معاہدہ کے تحت کم از کم۳۰۰؍ ارب ڈالر کے فنڈ کی منصوبہ بندی کرے گا جس کیلئے تمام ضروری لائسنس اور اجازت نامے فراہم  کئےجائیں گے۔
 ۳) امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا طاقت کے استعمال سے گریز کرینگے اور لبنان کی علاقائی خودمختاری کا بھی احترام کریں گے۔
۴)امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرینگے اور ایک دوسرے کے  معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے۔
 ۵)دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ۶۰؍ دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے پر متفق ہوئے ہیں، جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔
۶) امریکہ فوری طور پر ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دیگا اور۳۰؍ دنوں کے اندر اپنے فوجیوںکو ایران کے قریب سے ہٹا لے گا۔
۷) ایران ۶۰؍ دنوں کے دوران خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک تجارتی جہازوں کی بغیر کسی فیس کے محفوظ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔ آبنائے ہرمز کے انتظام کیلئے ایران عمان کیساتھ مل کر کام کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK