Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کو بیلسٹک میزائلوں سے محروم رکھنا ’ناانصافی‘ ہوگی: ٹرمپ؛ منجمد اثاثوں پر اپنا موقف بھی بدل دیا

Updated: June 18, 2026, 9:06 PM IST | Paris

۲۸ فروری کو جب اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملوں کا آغاز کیا تھا تو اسلامی ملک کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا صہیونی ریاست کے بنیادی اہداف میں شامل تھا، جبکہ واشنگٹن اب تک یہ دلیل دیتا آیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ اپنے جوہری عزائم کے خلاف بین الاقوامی مداخلت کو روک سکے۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے دن بیان دیا کہ ایران کو کچھ بیلسٹک میزائل رکھنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ان کا یہ بیان، امریکہ اور ایران کے درمیان یادداشت مفاہمت (ایم او یو) کے نافذ العمل ہونے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جو ان کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ 

فرانس میں جی۔۷ سربراہی اجلاس کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”میرا کہنا ہے کہ اگر دوسرے ممالک کے پاس یہ موجود ہیں، تو ان (ایرانیوں) کے پاس کچھ نہ ہونا تھوڑی ناانصافی ہے۔“ انہوں نے وضاحت کی کہ ”بیلسٹک میزائل وہ چیز نہیں ہے جس کا ذکر ہم اس وقت کرتے ہیں جب ہم ایٹمی معاملے پر بات کر رہے ہوں۔ اگر سعودی عرب اور قطر کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں، تو ایران کے پاس ”نسبتی تناسب“ میں ان کا ہونا قابلِ قبول ہوگا۔“ ٹرمپ کے اس بیاں کے بعد، امریکہ اور ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے ۶۰ روزہ جنگ بندی نافذ کرنے والے ڈجیٹل ایم او یو پر دستخط کئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین: ہسپانوی رکن کی جرأت رندانہ، ٹرمپ کو ’نسل کش‘ قرار دیا

یاد رہے کہ ۲۸ فروری کو جب اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملوں کا آغاز کیا تھا تو اسلامی ملک کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا صہیونی ریاست کے بنیادی اہداف میں شامل تھا، جبکہ واشنگٹن اس سے قبل یہ دلیل دیتا آیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ اپنے جوہری عزائم کے خلاف بین الاقوامی مداخلت کو روک سکے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایران کا میزائل پروگرام اب معاہدے کے بعد ۶۰ دن کی مہلت کے دوران ہونے والی گفتگو کا حصہ ہوگا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے ۱۴ نکاتی معاہدے میں ”لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے“ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ شروع نہ کرنے یا طاقت کا استعمال نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنایا جائے گا۔ امریکہ حتمی معاہدے کے ۳۰ دنوں کے اندر ایرانی سرزمین کے قریب تعینات اپنی افواج کو واپس بلا لے گا، جبکہ ایران ۶۰ دنوں کیلئے تجارتی جہازوں کے محفوظ اور ٹول فری گزرنے کیلئے آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔

یہ بھی پڑھئے: جی۔۷ ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان

ایران کے منجمد اثاثوں پر ٹرمپ نے اپنا مؤقف بدل لیا

اسی دن، ٹرمپ نے ایران کے منجمد اثاثے، تہران کو واپس کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ کسی دوسرے ملک کے فنڈز کو مستقل طور پر روکنے سے امریکی ڈالر اور وسیع تر بین الاقوامی مالیاتی نظام پر اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم نے ان کا پیسہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے، یہ ہمارا پیسہ نہیں ہے، یہ ان کا پیسہ ہے... اگر ہم نے اسے واپس نہیں کیا، تو کوئی بھی دوبارہ ڈالر میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔“ 

ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ان فنڈز کو اپنے پاس رکھنے پر غور کیا تھا لیکن وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس سے عالمی سطح پر ڈالر کی ساکھ متاثر ہوگی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ان کی صدارت میں کرنسی اس لئے بھی مضبوط ہوئی ہے کیونکہ ممالک کو امریکہ پر یہ بھروسہ ہے کہ وہ تنازعات پر ان کے اثاثے ضبط نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز میں ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ایرانی تیل کے جہاز اطمینان سے گزر رہے ہیں

معاہدے پر دستخط کے بعد، جمعرات کو ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ منڈیوں میں کشیدگی کم ہونے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی منصوبہ بندی کی توقعات کے باعث برینٹ کروڈ (Brent crude) ۸۹ سینٹ گر کر ۶۶ء۷۸ ڈالر فی بیرل پر آگیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ ۹۸ سینٹ کی کمی کے ساتھ ۸۱ء۷۵ ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK