Inquilab Logo Happiest Places to Work

جی۔۷ اجلاس میں ٹرمپ اور پزشکیان نے ۱۴ نکاتی معاہدے پر دستخط کئے، آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا

Updated: June 18, 2026, 7:04 PM IST | Paris/Tehran

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے ۱۴ نکاتی معاہدے کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرے گا جبکہ امریکہ تہران پر عائد پابندیاں ختم کرے گا۔ اس متن کو ابتدا میں خفیہ رکھنے پر ہونے والی تنقید کے بعد اس دستاویز کو عوامی سطح پر جاری کر دیا گیا ہے۔

Donald Trump and Masoud Pezeshkian. Photo: X
مسعود پزشکیان اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے بدھ کے دن ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ایک معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیئے ہیں۔ فریقین نے تصدیق کی کہ یہ معاہدہ اب نافذ العمل ہوچکا ہے، جس کے تحت تمام محاذوں پر دشمنی کا خاتمہ ہوگیا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ 

سی این این کے مطابق، ایک سینئر امریکی اہلکار نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے ۱۴ نکاتی معاہدے کو پڑھ کر سنایا، جسے باضابطہ طور پر ”ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اسلام آباد یادداشتِ مفاہمت “ کا نام دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرے گا جبکہ امریکہ اس پر عائد پابندیاں ختم کرے گا۔ اس متن کو ابتدا میں خفیہ رکھنے پر ہونے والی تنقید کے بعد اس دستاویز کو عوامی سطح پر جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا دنیا کیلئےانتہائی ضروری

معاہدے کے تمام ۱۴ نکات درج ذیل ہیں:

۱) تمام محاذوں پر تنازع کا خاتمہ: امریکہ اور ایران نے، اپنے اتحادیوں سمیت، لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے ”فوری اور مستقل“ خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنایا جائے گا۔

۲) اندرونی معاملات کا احترام: دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

۳) حتمی معاہدے کیلئے ۶۰ دن کی مہلت: دونوں ممالک نے ۶۰ دنوں کے اندر ایک مکمل اور حتمی معاہدے پر پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس میں توسیع صرف باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہوگی۔

۴) امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ: امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے اپنی بحری ناکہ بندی ہٹانا شروع کر دے گا، جسے ۳۰ دنوں کے اندر مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا اور اسی مدت کے دوران ایرانی سرزمین کے قریب موجود امریکی افواج کا انخلا بھی عمل میں لایا جائے گا۔

۵) آبنائے ہرمز: ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کے محفوظ اور ٹول فری (ٹیکس کے بغیر) گزرنے کی اجازت دینے کیلئے اپنی بہترین کوششیں بروئے کار لائے گا۔

۶) ایران کی تعمیر نو کیلئے ۳۰۰ ارب ڈالر کا وعدہ: امریکہ اور علاقائی شراکت داروں نے ایران کیلئے کم از کم ۳۰۰ ارب ڈالر مالیت کے تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے فنڈ پر اتفاق کیا ہے، جس کے نفاذ کو ۶۰ دنوں کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔

۷) ایران پر پابندیوں کا خاتمہ: امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں اور امریکہ کی تمام یکطرفہ پابندیوں کو ایک شیڈول کے تحت ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس پر حتمی معاہدے میں اتفاق کیا جائے گا۔

۸) ایران کا ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ: ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے یا تیار نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اس کے افزودہ مواد کے ذخیرے کے معاملے کو آئی اے ای اے کی نگرانی میں حل کیا جائے گا۔

۹) موجودہ صورتحال برقرار رکھنا: حتمی معاہدے تک ایران اپنے موجودہ جوہری پروگرام کی صورتحال کو برقرار رکھے گا جبکہ امریکہ نئی پابندیاں عائد کرنے یا ایران کے قریب اضافی افواج تعینات کرنے سے گریز کرے گا۔

۱۰) ایرانی برآمدات پر چھوٹ: امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور اس سے وابستہ خدمات بشمول نقل و حمل، انشورنس اور بینکنگ کی برآمد کی اجازت دینے کیلئے چھوٹ دے گا۔

۱۱) ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی: امریکہ معاہدے پر عمل درآمد ہوتے ہی ایران کے منجمد فنڈز اور اثاثے دستیاب کرائے گا، جس کی رہائی کے طریقہ کار پر باہمی اتفاق کیا جائے گا۔

۱۲) نفاذ کا طریقہ کار: دونوں ممالک نے اس یادداشت مفاہمت اور مستقبل کے حتمی معاہدے کی تعمیل کی نگرانی کیلئے انتظامی طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

۱۳) حتمی معاہدے کیلئے مذاکرات: حتمی معاہدے کیلئے مذاکرات اس وقت شروع ہوں گے جب نکات ۱، ۴، ۵، ۱۰ اور ۱۱ پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

۱۴) یو این ایس سی کی توثیق: حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK