Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ ختم، آبنائے ہرمز کھل گیا، جمعہ کو معاہدہ پر دستخط

Updated: June 16, 2026, 8:27 AM IST | Washington

ٹرمپ ،ان کے نائب اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقرقالیباف نے معاہدہ ٔمفاہمت پر دستخط کردیئے، مسعود پیزشکیان نے اسے تہران کی شاندار فتح قرار دیا

A banner of thanks is being prepared in Beirut for Lebanon`s inclusion in the Iran-US ceasefire agreement.
ایران -امریکہ جنگ بندی معاہدہ میں  لبنان کو شامل رکھنے پر بیروت میں شکریہ کا بینر تیار کیا جارہاہے

: کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد پیر کو ایران اور امریکہ بالآخرجنگ بندی کے معاہدہ پر متفق ہوگئے اور اس ضمن میں معاہدہ ٔ مفاہمت پر دستخط بھی کردیئے۔  اس کے ساتھ ہی جنگ کا خاتمہ ہوگیا، آبنائے ہرمز کھول دیاگیا اور وہاں سے جہازوں کی آمدورفت شروع ہوگئی۔ حتمی معاہدہ پر دستخط جمعہ ۱۹؍ جون کو جنیوا میں کئے جائیں گے۔ معاہدہ مفاہمت پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے دستخط کئے ہیں۔ 
ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا اور لکھا ہے کہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ سب کو مبارک ہو! میں آبنائے ہرمز کو بغیر کسی محصول کے کھولنے اور ساتھ ہی ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی اجازت دیتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ ’’دنیا کے جہازو، اپنے انجن چالو کردو۔ تیل بہنے دو!‘‘یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے۲۸؍ فروری کو جنگ شروع کئے جانے کے بعد ایران نے خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جبکہ۱۲؍ اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ  نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کردی تھی۔ 
 ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے تصدیق کی
اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے تصدیق کی کہ تہران اور وشنگٹن نے جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ مفاہمت کے متن کو حتمی شکل دے دی ہے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کا معاوضہ اس معاہدے کے لازمی حصے ہیں۔
 جنگ بندی میں لبنان بھی شامل
کونسل کے سیکریٹریٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ طے شدہ معاہدہ کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ تاہم بیان میں آبنائے ہرمز کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ بیان کے مطابق جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق حتمی مذاکرات اس وقت تک مؤخر رہیں گے جب تک دوسرا فریق معاہدہ مفاہمت  کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔
۶۰؍ دنوں میں بنیادی مسائل پر گفتگو
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ۶۰؍روزہ جنگ بندی پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران بنیادی مسائل پر مذاکرات  کئے  جائیں گے۔ ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں  اسے ’’ عظیم معاہدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لائے گا اور معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کیلئے کھول دیا جائے گا، جس سے خطے اور دنیا دونوں کیلئے تیل کی ترسیل بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے پیر کی شام کہا کہ کئی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
 اثاثے غیر منجمدہوںگے اور نقصان کی بھرپائی ہوگی
اس بیچ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران جہازوں سے راہداری ٹیکس وصول نہیں کرے گاالبتہ جہاز رانی کی خدمات، ماحولیاتی تحفظ، انشورنس اور دیگر ضروری سہولتوںکیلئے فیس وصول کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ منجمد ایرانی اثاثوں کو جاری کیا جانا  اور نقصانات کا معاوضہ دو بنیادی نکات ہیں اور امریکی فریق نے ان دونوں معاملات پر اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے بعد ثالث اس ہفتے کئی ملاقاتوں کا اہتمام کریں گے تاکہ تکنیکی مذاکرات اور باضابطہ دستخطی تقریب کیلئےبنیاد رکھی جا سکے۔
 ۶۰؍ دن میں ایران کو ۲۴؍ ارب ڈالر ملیں گے
 ایران کے صدر مسعودی پیزشکیان نے جنگ بندی کو ایران کی واضح اور شاندار فتح قرار دیا ہے۔  خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق اس معاہدے کے تحت۶۰؍ روزہ مذاکراتی مدت کے دوران ایران کے۲۴؍ارب ڈالر  کے منجمد اثاثے جاری  کئے   جائیں گے۔ تاہم امریکی حکام، جن میں ٹرمپ اور جے ڈی وینس شامل ہیں، اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو کوئی رقم ادا نہیں کی جائے گی۔ 

iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK