مہنگائی کا اثر تعلیمی اشیاء کی قیمتوںپر پڑرہاہے، کتابوں، نوٹ بکس، اسکول بیگز اور آرٹ کے سامان کی قیمتوں میں۲۰؍سے ۲۵؍فیصد کااضافہ۔والدین صرف ضروری سامان خریدرہےہیں۔
دادر میں ایک دکان پر والدین خریدار ی میں مصروف - تصویر: آشیش راجے
نئے تعلیمی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء میں اسکولی سامان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ نصاب کی سپلیمنٹری کتابوں، پریکٹس سیٹ، نوٹ بک، اسکول بیگ، ڈرائنگ میٹریل، پین اور پنسل کےعلاوہ دیگر اسٹیشنری کی قیمتوں میں ۲۰؍ سے ۲۵؍ فیصد کے اضافے سے والدین فکرمند ہیں ، ان کا بجٹ بگڑ گیا ہے ۔ گزشتہ سال کے مقابلے اسکولوں کی کتابوں کی قیمتوں میں اوسطاً ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ نوٹ بک اور پرنٹ شدہ نوٹ بک کی قیمتوں میں بھی ۲۰؍ سے ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ کتب فروشوں کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ خام مال (کاغذ) کی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات اور دیگر پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے ۔ اسکولی سامان کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا براہ راست اثر والدین اور طلبہ پر پڑ رہا ہے ۔ملک میں اس وقت جہاں ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں وہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اثر اسکول یونیفارم، بیگ، پینے کے پانی کی بوتلوں اور دیگر اشیاء پر پڑا ہے ۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آمدورفت کے اخراجات بڑھنے سےا سکولوں کا سامان مہنگا ہوا ہیں جبکہ کتابوں کی قیمتوں میں اضافہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ نوٹ بک کیلئے استعمال ہونے والے کاغذ کی تیاری کی لاگت بڑھ گئی ہے۔
اسٹیشنری کی دکانوں پر خریداروں کا ہجوم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ دادر اور شہر کے دیگر بڑے بازاروں میں والدین اور طلبہ کو اسکول کا سامان خریدتے دیکھا گیا ہے ۔ دادر میں ایک کتاب فروش نے بتایا کہ’’ پچھلے سال کے مقابلے اسکولی سامان کی قیمتوں میں ۲۰؍ سے ۲۵؍فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے والدین اسکول کا ضروری سامان خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ‘‘
گزشتہ سال کے مقابلے اس سال ایک بچے کو اسکول کے سامان پر ۱۵۰۰؍ سے ۳۰۰۰؍ روپے اضافی خرچ کرنے ہوں گے۔ والدین کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کا خرچ مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ ا سکول خود یا مقرر کردہ دکانداروں سے سامان خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے متعدد والدین پرانی کتابوں یا کم قیمتوں والے متبادلات تلاش کر رہے ہیں، حالانکہ مہاراشٹر حکومت نے اس تعلق سے ایک سرکیولر جاری کیا تھا کہ نجی اسکولوں کو مخصوص دکانوں یا اسکولوں کے ذریعے یونیفارم اور کتابیں فروخت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے لیکن کئی والدین کی شکایت ہے کہ متعدد اسکول اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں ۔ تعلیمی ماہرین نے کہا ہے کہ کاغذ کی درآمد اور پیداواری لاگت میں اضافہ، جی ایس ٹی سے متعلق تبدیلیوں اور مہنگائی کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
والدین کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کیا جائے اورا سکولوں کی جانب سے زبردستی کرنا بند کیا جائے ۔ ان تنظیموں نے مارکیٹ میں مختلف دکانوں پر قیمتوں کا موازنہ کرنے ، پرانی کتابوں کو دوبارہ استعمال کرنے اور ممکنہ طور پر آن لائن متبادلات کی جانچ کرنے کی اپیل کی ہے، پھر بھی، اس سال اسکول کی فیسوں میں ۲۰؍ سے ۳۰ ؍ فیصد کا اضافہ ناگزیر معلوم ہوتا ہے ۔ اسکولی سامان کی قیمتوں میں یہ اضافہ متوسط طبقے کے خاندانوں پر ایک بڑا بوجھ بن گیا ہے۔ نئے تعلیمی سال میں تعلیم کی قیمت عام والدین کیلئے ایک بڑا امتحان بن گئی ہے ۔