ایرانی فٹ بال ٹیم کے کپتان مہدی تاریِمی نے انکشاف کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے شریک میزبان ملک امریکہ کے ساتھ کشیدگی اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی متعدد رکاوٹوں کے باعث ان کی ٹیم کے لئے فیفا ورلڈ کپ کا تجربہ انتہائی مشکل اور چیلنجنگ رہا ہے۔
EPAPER
Updated: June 15, 2026, 4:01 PM IST | New York
ایرانی فٹ بال ٹیم کے کپتان مہدی تاریِمی نے انکشاف کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے شریک میزبان ملک امریکہ کے ساتھ کشیدگی اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی متعدد رکاوٹوں کے باعث ان کی ٹیم کے لئے فیفا ورلڈ کپ کا تجربہ انتہائی مشکل اور چیلنجنگ رہا ہے۔
ایرانی فٹ بال ٹیم کے کپتان مہدی تاریِمی نے انکشاف کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے شریک میزبان ملک امریکہ کے ساتھ کشیدگی اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی متعدد رکاوٹوں کے باعث ان کی ٹیم کے لئے فیفا ورلڈ کپ کا تجربہ انتہائی مشکل اور چیلنجنگ رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے اپنے افتتاحی گروپ میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے۳۳؍ سالہ اسٹرائیکر مہدی تاریِمی نے کہا کہ میں نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءمیں پہنچتے ہی پہلے لمحے سے تناؤ محسوس کیا ہے۔جب کسی ٹورنامنٹ میں ایسا ماحول ہو تو ہم اس پرامن اور خوبصورت تجربے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے جس کا تذکرہ ہمیشہ فٹ بال کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مسٹر بِیسٹ نے یوٹیوب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ بنایا
واضح رہے کہ ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ءکو امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کے سبب ایرانی ٹیم کو اپنے تربیتی کیمپ اریزونا سے میکسیکو کے شہر تیہوانا منتقل کرنے پڑے۔ فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ایران کی میچز امریکہ سے باہر منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ایرانی ٹیم کو ہر میچ کے لئے میکسیکو کے بارڈر سے طویل سفر کر کے آنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیم کو ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اتوار کو بھی ایران کے ۲؍ میڈیا حکام کو امریکی ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا۔ایرانی ٹیم کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ نوئی نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ ان حالات نے کھیل کے جذبے کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔فٹ بال کا مقصد قوموں کو قریب لانا ہے، لیکن ان حالات نے ہماری تکنیکی توجہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تاہم، ہم مشکلات کو مواقع میں بدلنے کے عادی ہیں اور ہماری تمام تر توجہ اب کھیل اور حکمتِ عملی پر ہے۔عالمی رینکنگ میں ۲۰؍ ویں نمبر پر موجود ایرانی ٹیم کو سخت سیکوریٹی اور سفری پابندیوں کا سامنا ہے اور وہ میچ سے صرف ایک دن پہلے امریکہ پہنچتی ہے اور میچ کے فوراً بعد واپس روانہ ہو جاتی ہے۔ ایران کا اگلا میچ ۲۱؍ جون کو بلجیم کے خلاف اسی اسٹیڈیم میں ہوگا جبکہ گروپ مرحلے کا آخری میچ ۲۶؍ جون کو سیئٹل میں مصر کے خلاف کھیلا جائے گا۔