ایرانی صدرپزشکیان نے امریکہ و اسرائیلی جنگ کو ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا، ساتھ ہی انہوں نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی میکانزم کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 8:32 PM IST | Yerevan
ایرانی صدرپزشکیان نے امریکہ و اسرائیلی جنگ کو ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا، ساتھ ہی انہوں نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی میکانزم کا مطالبہ کیا۔
آرمینیائی خبر رساں ایجنسی آرمین پریس کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ ملک کے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی میکانزم کا مطالبہ کیا۔آرمینیائی دارالحکومت یریوان میں COP17 لیڈرز سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے، پزشکیان نے یہ کہتے ہوئے کہ فوجی جارحیت حیاتیاتی تنوع، قدرتی وسائل اور آنے والی نسلوں کو خطرہ میں ڈالتی ہے جنگ کے تباہ کن ماحولیاتی نتائج سے خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگیں جنگلات، زرخیز زمینوں، دلدلی علاقوں اور آبی وسائل کو تباہ کر دیتی ہیں، جبکہ ہتھیار ماحول میں خطرناک کیمیکلز اور بھاری دھاتیں خارج کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’قدرتی ماحول کی تباہی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔ یہ مسئلہ ہمارے خطے بشمول ایران میں آنے والی نسلوں کی فلاح و بہبود کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ فوجی جارحیت کے ماحولیاتی نتائج کے لیے عالمی برادری سے فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘
دریں اثنا، قازق صدر قاسم-جومارٹ توکایف نے ماحولیات کے تعلق سے وعدوں کو عملی نتائج میں بدلنے کا مطالبہ کیا،ساتھ ہی خبردار کیا کہ صحرا بندی اور پانی کی کمی پائیدار ترقی اور عالمی استحکام کو خطرہ میں ڈالتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی مسائل کو سیاسی اختلافات پر فوقیت دی جانی چاہیے اور فیصلوں کو عملی نتائج تک لے جانا چاہیے۔توکایف نے کہا، ’’لاکھوں لوگوں کے لیے، پانی کی قلت اور خراب زمین پہلے ہی روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ سب سے مشکل نتیجہ یہ ہے کہ یہ عمل سرحدوں سے باہر تک پھیلتا ہے، پائیدار ترقی کو کمزور کرتا ہے اور عالمی استحکام کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: باکو سیکوریٹی سربراہی اجلاس: اسرائیلی صدرکی تقریر,۱۰؍ سے زائد ممالک کا واک آؤٹ
علاوہ ازیں کرغیز صدر صدر جاپاروف نے اسی طرح تمام ریاستوں کے بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنا کر عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے پہاڑی اور میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام پر یریوان پلیٹ فارم قائم کرنے کے آرمینیا کے اقدام کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا، اس کے کام میں فعال طور پر شامل ہونے کے لیے تیاری کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ آرمینیا COP17 کی صدارت کر رہاہے، جو یریوان میں۱۹؍ سے۳۰؍ اکتوبر تک منعقد ہو رہا ہے، جس میں حکومتی وفود، بین الاقوامی تنظیمیں، اور سول سوسائٹی کے نمائندے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں پیش رفت کا جائزہ لینے اور مزید کارروائی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمع ہیں۔