• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یمن: لڑائی میں شدت، اتحادی فوج کا مدینہ کی طرف بڑھنے والے ڈرون اورداغے گئے میزائل روکنے کا دعویٰ

Updated: October 16, 2026, 12:05 PM IST | Agency | Sanaa

حوثی باغیوں کا ظہران میں سعودی آرامکوکو نشانہ بنانے کادعویٰ، اتحادی افواج کے حوثیوں کے اہم ٹھکانوں پرحملے۔

Aramco facilities are also coming under fire from Houthi attacks. Photo: INN
آرامکوکی تنصیبات بھی حوثی حملوں کی زد میں ہیں۔ تصویر: آئی این این

یمن کی حکومت کے حامی دستوں نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کے شہر مدینہ کی جانب بڑھنے والے ایک ڈرون اور ریاض کی طرف داغے گئے ایک میزائل کو روک لیا ہے۔ یہ پیش رفت یمنی حکومت کی فورسز اور حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے دوران سامنے آئی ہے۔سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری فوج اورحوثی باغیوں کے درمیان ملک کے مغربی ساحلی علاقوں میں لڑائی تیز ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حوثیوں نے پڑوسی ملک سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملے بھی بڑھا دیے ہیں۔

بدھ کو حوثیوںکے جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کی فورسز نے ظہران میں سعودی آرامکو کو نشانہ بناتے ہوئے اعلیٰ معیار کی فوجی کارروائی کی۔ انہوں نے ریاض کے ہوائی اڈے اور دارالحکومت میں واقع ایک ریفائنری پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں کارروائیاں جاری رہیں گی اور سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔سعودی وزارت توانائی کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ ظہران میں آرامکو کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس سے محدود پیمانے پر آگ لگی، تاہم کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: پشاور کے اسکول کی چھت گرگئی،۲۲؍طلبہ جاں بحق

ظہران میں آرامکو کا صدر دفتر واقع ہے، جہاں متعدد عمارتوں اور رہائشی احاطوں پر مشتمل ایک وسیع کمپلیکس موجود ہے۔دوسری جانب، سعودی عر ب کی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثیوں کے مضبوط ٹھکانوں پر حملے کئے۔ حوثیوں نے ۲۰۱۴ءمیں صنعا پر قبضہ کیا تھا اور تب سے شہر ان کے کنٹرول میں ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں کے خلاف جنگ جاری رکھی تھی، جنہوں نے یمن کے فوجی سازوسامان کی بڑی مقدار پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔۲۰۲۲ء میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا لیکن حالیہ مہینوں میں یہ جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے۔

صنعاسے الجزیرہ کے نامہ نگار یوسف موری نے بتایا کہ جنگ اب جوابی حملوں کے سلسلے میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ ان کے مطابق حوثی فورسیز کا مقصدآگ کا جواب آگ سے دینا ہے، یعنی فضائی حملے کے جواب میں فضائی حملہ، دارالحکومت کے جواب میں دارالحکومت، ہوائی اڈے کے جواب میں ہوائی اڈہ اور توانائی کی تنصیب کے جواب میں توانائی کی تنصیب کو نشانہ بنانا۔سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں میں زیادہ تر ریاض کے مضافات میں واقع اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم حملے اب شہر کے مرکزی علاقوں کے قریب پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے کے آخر میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی حملوں میں۱۴؍ افراد ہلاک اور۳۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے۔ جنوبی سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت دیگر ہوائی اڈوں پر بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔ ابہا میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ سعودی آرامکو کی توانائی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئی ہیں۔حکام کے مطابق، ریاض کا ہوائی اڈہ کم از کم ہفتے تک بند رہے گا۔ متعدد فضائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔الجزیرہ کے نامہ نگار موری نے کہا کہ جوابی حملوں کے نتیجے میں فضائی آمدورفت متاثر ہونے سے سعودی عرب کو کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK