اسلام آباد: سپریم کورٹ کا وکلاءکے غیر قانونی چیمبر منہدم کرنے کا حکم

Updated: March 03, 2021, 12:39 PM IST | Agency | Islamabad

وکیلوں نے متعلقہ عدالت کی غیر قانونی عمارت ہونے کا جواز پیش کیا تو جج نے حکم دیا کہ ’’ عدالت کی عمارت کو بھی مسمار کر دیاجائے‘‘

Pakistan Supreme Court - Pic : INN
پاکستان سپریم کورٹ ۔ تصویر : آئی این این

پاکستان کے سپریم کورٹ نے  وکلاء کے غیر قانونی چیمبروں کو فوری طور پر گرانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے ان چیمبروں کیلئے متبادل جگہ کی استدعا بھی مسترد کردی گئی ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربرا ہی والی  رکنی بینچ نے وکلا کے چیمبر گرائے جانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے وکلا کے وکیل سے سوال کیا کہ ’’کس بنیاد پر غیرقانونی چیمبروں کو برقرار رہنے دیں؟ وکلاء کا فٹبال گراؤنڈ پر کوئی حق یا دعویٰ نہیں۔ جس وکیل کو پریکٹس کرنی ہو وہ اپنا دفتر کہیں اور بنا لے۔‘‘
 وکلا کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ فٹ بال گراؤنڈ پر کئی عدالتیں بھی بنی ہوئی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو عدالتیں گراؤنڈ کی زمین پر بنی ہوئی ہیں وہ بھی مسمار کردی جائیں۔ کسی غیرقانونی کام کو جواز کیسے فراہم کر دیں؟اس موقع پر چیف جسٹس نےعرضی گزار کو مہلت دیتے ہوئے کہاکہ ’’ حامد خان صا حب( عرضی گزار) ۲؍ ماہ میں گراؤنڈ خالی کریں۔‘‘ تاہم حامد خان نے کہا کہ ہائی کورٹ نئی بلڈنگ میں چیمبر منتقل ہونے تک کا وقت دیں۔ وکلاء کی متبادل جگہ ملنے تک وقت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا طویل وقت نہیں دے سکتے۔ چیف جسٹس کی پیشکش قبول نہ کرنے پر عدالت نے بار کی اپیل خارج کر دی۔
 عدالت نے کیس پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء فوری طور پر فٹ بال گراؤنڈ خالی کریں، جبکہ تمام غیر قانونی چیمبروں کو بھی مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد بار کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے غیر قانونی چیمبروں مسمار کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم برقرار رکھا۔قبل ازیں ۲۷؍ فروری کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو فٹ بال گراؤنڈ، گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں پر بنے وکلا کے غیر قانونی چیمبروں کو گرانے سے روک دیا تھا۔
  واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گزشتہ ماہ غیر قانونی چیمبروں کو گرائے جانے پر وکیلوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا  اور وہاں پر توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔ ان میں سے کئی وکیلوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تھی۔ لیکن اسلام آباد  ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انہدامی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے اسی عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے منگل کو یہ فیصلہ سنایا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK