پرکاش امبیڈکر نے الزام لگایاہے کہ مقصد اٹلی میں روکے گئے اُن ۴؍ جہازوں کو چھڑوانا تھا جن میں تل ابیب کیلئے ۸۰۰؍ ٹن اسٹیل بھیجا گیا ہے
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 12:47 AM IST | Mumbai
پرکاش امبیڈکر نے الزام لگایاہے کہ مقصد اٹلی میں روکے گئے اُن ۴؍ جہازوں کو چھڑوانا تھا جن میں تل ابیب کیلئے ۸۰۰؍ ٹن اسٹیل بھیجا گیا ہے
وزیر اعظم نریندر مودی نے ۱۵؍ سے ۲۰؍ مئی کے دوران متحدہ عرب امارات، نیدر لینڈس، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا تاہم اٹلی میں ان کی سرگرمیوں نے خاصی توجہ حاصل کی۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی کیلئے ان کے’’میلوڈی‘‘ چاکلیٹ کے تحفے نے جہاں سوشل میڈیا پر دھوم مچادی وہیں اپوزیشن نے اس کو اوچھی حرکت قرار دیا اور حکومت کو نشانہ بنایا لیکن اب ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر نے وزیراعظم مودی کے اس دورے کو نیا رخ دے دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم کے یورپ دورہ کا بنیادی مقصد اٹلی جانا اور وہاں روکے گئے ان جہازوں کو چھڑوانا تھا جن پرہندوستان سے اسرائیل کیلئے ملٹری گریڈ کا اسٹیل بھیجا گیاتھا۔ پرکاش امبیڈکر نے اس تعلق سے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں ناروے، سویڈن اور نیدر لینڈس کادورہ میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے تھا،وزیراعظم کی اصل منزل اٹلی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ’’اس وقت ملک میں، گیس، ڈیزل، پیٹرول ،کسانوں کیلئے سلفر اور کھاد کا مسئلہ دراصل وزیراعظم مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔‘‘
اس کی تفصیل فراہم کرتےہوئے انہوں نےبتایا کہ ’’اٹلی میں بائیکاٹ ، ڈِس انویسٹ منٹ اینڈ سینکشن (بی ڈی ایس) اور موومنٹ نو ہار بر فار جینوسائڈ(این ایچ بی) نامی ۲؍ تنظیمیں ہیں جو اسرائیل اور فلسطین تنازع کے پس منظر میں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ اٹلی کی بندر گاہوں سے ہوکرکوئی سامان اسرائیل نہ جائے۔‘‘ پرکاش امبیڈکر نے بتایا کہ یہ تنظیمیں اٹلی کے ملازمین کی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممبئی کے قریب جے این پی ٹی اور چنئی کی بندرگاہ سے نکلے ہوئے ۴؍ جہاز مذکورہ تنظیموں کی نشاندہی پر اٹلی میں روکے گئے ہیں جن میں تقریباً ۸۰۰؍ ٹن ملٹری گریڈ اسٹیل ہے۔ یہ اسٹیل اسرائیل جارہا تھا۔ ان کے مطابق جہاز کو روکنےوالی تنظیموں کا الزام ہے کہ اگریہ اسٹیل اسرائیل پہنچ گیاتواس سے کم از کم ۱۷؍ ہزار بم گولے تیار ہوں گےجن کا استعمال فلسطین میں نسل کشی کیلئے کیا جائے گا۔‘