اسرائیلی اپوزیشن لیڈر گادی آئزن کوٹ نے وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر پر داخلی سلامتی کی صورت حال بگاڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیگیو میں جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 8:12 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر گادی آئزن کوٹ نے وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر پر داخلی سلامتی کی صورت حال بگاڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیگیو میں جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر گادی آئزن کوٹ نے اتوار کو کہا کہ وزیر اعظم بجامین نیتن یاہو اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے ملک کی داخلی سلامتی کی صورت حال کو ’’تاریخی پستی‘‘ تک پہنچا دیا ہے۔ یشار پارٹی کے سربراہ آئزن کوٹ نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ بیان شمالی نیگیو کے علاقے گیووت بار بستی کے رہائشیوں کی جانب سے سنیچر کو شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع کے بعد دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا: سابق وزیر اعظم مآثیر محمد کی اہلیہ سیتی حسما کا ۱۰۰؍ سال کی عمر میں انتقال
انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو فلسطینی گروپ حماس کے اسرائیل پر حملے سے وابستہ خدشات کو دوبارہ زندہ کردیا ہے اور یہ نیتن یاہو حکومت کی ایک اور ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ آئزن کوٹ نے کہا، ’’نیتن یاہو کی ناکام قیادت اور ناکام وزیر بن گویر کے تحت اسرائیل کی داخلی سلامتی تاریخی پستی کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔‘‘ انہوں نے حکومت پر قانون کے نفاذ میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نیگیو بھر میں جرائم پیشہ تنظیمیں سرگرم ہیں، جبکہ حکام ریاستی کنٹرول بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
آئزن کوٹ نے بن گویر پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ مؤثر پولیسنگ اور قانون کے نفاذ کے بجائے ’’سستی مقبولیت‘‘ اور سرخیوں کے حصول پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یشار پارٹی کے داخلی سلامتی کے منصوبے میں منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے کابینہ کی سطح پر ایک ادارے کا قیام، پولیس اور انٹیلی جنس کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا، اور جرائم پیشہ تنظیموں کے خاتمے اور جنوبی اسرائیل میں بھتہ خوری سے نمٹنے کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنا شامل ہے۔ اسرائیل میں کنیسٹ کے انتخابات ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔