فریقین کی ایک دوسرے کو سخت نتائج کی دھمکیاں، جنگیں شروع کرنا آسان ہے لیکن چند ٹویٹس سے خاتمہ نہیں ہوتا: علی لاریجانی۔
EPAPER
Updated: March 14, 2026, 9:31 AM IST | Tehran
فریقین کی ایک دوسرے کو سخت نتائج کی دھمکیاں، جنگیں شروع کرنا آسان ہے لیکن چند ٹویٹس سے خاتمہ نہیں ہوتا: علی لاریجانی۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کو ۲؍ ہفتے مکمل ہو گئے ہیں۔ فریقین موجودہ لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ایک دوسرے کو سخت نتائج کی دھمکیاں دےرہے ہیں ۔ اس دوران لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی مالیاتی منڈیاں شدید دباؤ میں ہیں اور تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو سرکاری ٹیلی وژن پر اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند رکھے گا۔ انہوں نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا کہ وہ امریکی فوجی اڈے بند کریں ورنہ انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینا ہرگز نہیں بھولیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہونے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا مقصد ایرانی عوام کو اپنی قیادت گرانے میں مدد دینا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ایسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں جس سے حکومت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایرانی عوام حکومت کو گرا دیں گے کیونکہ حکومتیں اندر سے گرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ضرور مدد کر سکتے ہیں اور ہم یہی کر رہے ہیں۔
واضح ہوکہ جمعہ کی صبح تہران میں بڑے پیمانے پراسرائیل نے فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔ تہران اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اگزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران مغربی اور وسطی ایران میں ۲۰۰؍سے زیادہ اہداف پر حملہ کیا گیا۔ ادھر ایران نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی نئی بارش کی۔ اس اقدام سے امریکہ اور اسرائیل کے ان دعوؤں کو چیلنج کیا گیا، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا بڑا حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایک ایرانی میزائل شمالی اسرائیل میں ناضرت کے قریب ایک بدوی عرب قصبے میں گرا جس سے کئی گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر اعلان کیا کہ اس نے ایران سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کا پتہ لگایا ہےاور مزید یہ کہ دفاعی نظام نے خطرے کو روکنے کیلئے کام کیا۔ فوج کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کے بعد پورے اسرائیل میں سائرن بجنے لگے۔ ادھر اسرائیلی ایمبولینس سروس نے شمالی اسرائیل میں الجلیل کے ایک قصبے میں میزائل گرنے کے نتیجے میں ۵۸؍افراد کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا آئی سی جے میں اسرائیل کا دفاع ، نسل کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہا امریکہ ایرانی حکومت کو فوجی، اقتصادی اور دیگر صورتوں میں مکمل طور پر تباہ کر رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، ان کے میزائل، ڈرون اور باقی سب کچھ تباہ ہو رہا ہے اور ان کے لیڈروں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاس بے مثال فائر پاور، لامحدود گولہ بارود اور کافی وقت ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہاکہ جنگیں شروع کرنا آسان ہے لیکن ان کا خاتمہ چند ٹویٹس سے نہیں ہوتا۔ علی لاریجانی نے اپنے بیان میں ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں شروع کرنا تو آسان کام ہے لیکن ان کا خاتمہ محض چند ٹویٹس سے نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ امریکی صدر کے سوشل میڈیا بیانات سے خطے کی صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایرانی عہدیدار نے سخت لہجہ میں کہا کہ ہم آپ کو اس وقت تک جانے نہیں دیں گے جب تک آپ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے اور اسکی قیمت ادا نہیں کرتے۔ فی الحال اس جنگ کے خاتمے کی صورت نظر نہیں آ رہی ہے۔