Inquilab Logo Happiest Places to Work

برسوں بعد ملے اور خوب ملے، انجمن اسلام کی سابق طالبات کا اجتماع

Updated: April 30, 2026, 3:09 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

سیف طیب جی گرلزہائی اسکول، بیلاسس روڈ کی وہ طالبات جو ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائی میں زیر تعلیم تھیں ’’المنائی میٹ‘‘ کے تحت ملیں اور ایک نظیر قائم کی، صدر انجمن اسلام ڈاکٹر ظہیر قاضی نے اس موقع پر کہا کہ جلد ہی بڑے پیمانے پر اس نوعیت کا پروگرام منعقد کیا جائیگا۔

Former students can be seen at the `Alumni Meet 2026` held at Saif Tayyabji Girls High School. Photo: INN
سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول میں منعقد ’المنائی میٹ ۲۰۲۶ء‘ میں سابق طالبات کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انجمن اسلام سیف طیب جی اُردو گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بیلاسس روڈ کی جانب سے منگل کو ’المنائی میٹ ۲۰۲۶ء (جلسہ طالباتِ سابق) کا انعقاد کیا گیا جس میں ادارہِ ھٰذا کے ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء کی طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں مذکورہ اسکول سے تعلیم حاصل کرکے مختلف شعبہ حیات میں کامیاب کرئیر بنانے والی خواتین نے اپنے تجربات کی روشنی میں اہم اور کارآمد معلومات فراہم کیں۔ ممبئی اور دہلی کے علاوہ بیرونی ممالک میں مقیم طالبات نے بھی اپنے اسکولی دور کا جذباتی انداز میں اظہار کیا۔

انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول سے پڑھائی کرکے مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز آفیسران، ڈاکٹرز، سی اے، پروفیسرز، ڈیٹا انالسٹ، پرنسپل اور ٹیچرز تقریب میں موجود تھیں۔ المنائی میٹ کا مقصد سابق طالبات کو ایک دوسرے سے برسوں بعد ملاقات کا موقع فراہم کرنے کے علاوہ، جس ادارہ سے تعلیم و تربیت حاصل کی ہے، اس کی موجودہ ترقی اور کامیابی سے آگاہ کرانا تھا۔

جن ممتاز اور نامور سابق طالبات نے اِس یادگار تقریب میں شرکت کی، ان میں ڈاکٹر بیگم ریحانہ احمد، سابق پرنسپل نجمہ قاضی، زاہدہ ابوعاصم اعظمی، نیلم انتولے، تزئین عقیل حفیظ، ڈاکٹر شہناز، ڈاکٹر فہمیدہ شیخ، ڈاکٹر کنیز فاطمہ، ڈاکٹر منظر التمش شیخ، ڈاکٹر افشاں لاہیجی، ڈاکٹر فرزانہ اور دیگر ممتاز طالبات شامل ہیں۔ ان سبھی نے اپنے اسکول اور اساتذہ کو والہانہ انداز میں یاد کیا اور تدریسی خدمات کیلئے اظہار تشکر پیش کیا۔

سیف طیب جی اسکول سے تعلیم حاصل کرکے آئی اے ایس بننے والی فریدہ نائیک، جو ان دنوں وزارت ِ کانکنی میں جوائنٹ سیکریٹری کے عہدہ پر فائز ہیں، نے دہلی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پروگرام میں شرکت کی۔ انہوں نے بالخصوص سابق پرنسپل نجمہ قاضی سے براہ راست آن لائن گفتگو کی اور کہا کہ میری ترقی اور کامیابی میں آپ کا اہم کردار ہے۔ ان کے علاوہ لندن سے صائقہ شیخ نے بھی اسکول اور یہاں کے پرنسپل اور اساتذہ کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر انجمن اسلام کے صدر پدم شری ڈاکٹر ظہیر قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’سیف طیب جی اسکول کی سابق طالبات کی کہکشاں کو دیکھ کر بڑی مسرت ہو رہی ہے۔ اُردو میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کرکے ہماری طالبات ملک و قوم کی جو خدمت کر رہی ہیں، وہ قابل ستائش ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی ان طالبات نے جہاں اپنے والدین اور سرپرستوں کا نام روشن کیا ہے وہیں اسکول اور ادارہ کی شہرت کو بھی چار چاند لگائے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر ظہیر قاضی نے محفل کے شرکاء سے دیگر سابق طالبات کو تلاش کرنے میں مدد کرنے کی درخواست کی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جلد ہی بڑے پیمانے پر اس نوعیت کا ایک اور پروگرام منعقد کیا جائے گا جو آن لائن ساری دنیا میں ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا تاکہ انجمن اسلام کے المنائی یکجا ہوسکیں اور ایک دوسرے سے انٹرایکٹ کرسکیں۔‘‘

۷۰ء کی دہائی میں یہاں کو ایجوکیشن کی سہولت بھی دستیاب تھی۔ چہارم جماعت تک لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ معروف سماجی کارکن سعید خان اور فرید خان نے بھی یہاں سے پڑھائی کی ہے۔ ان کی ۸؍ بہنوں نے بھی اسی اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے۔ تقریب میں ان دونوں بھائیوں نے بھی اسکول سے متعلق اپنے تاثرات پیش کئے۔

اسکول کے دور کی یادوں کو سمیٹنے والی اس تقریب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اسکول ھٰذا کی موجودہ پرنسپل آمنہ قاضی کا خاص رول رہا۔

میں پہلی طالبہ ہوں جو اسکول کی ایگزیکٹیوچیئر پرسن بنی

’’یہاں موجود المنائی میں سب سے زیادہ عمررسیدہ ہوں لیکن جب کبھی یہاں آتی ہوں، خود کو ۱۵؍ سال سے زیادہ عمر کی محسوس نہیں کرتی ہوں۔ میں جو کچھ بھی ہوں، اس کیلئے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہتی ہوں، بعدازیں والدین اور اس کے بعد سارا حصہ سیف طیب جی اسکول کا ہے۔ میں انجمن اسلام کی پہلی طالبہ ہوںجو اسی ادارہ کے گرلز اسکول کی ایگزیکٹیو چیئر پرسن کے عہدہ پر فائز ہوئی تھی۔ اللہ ،  انجمن کو سلامت رکھے یہی دعا ہے۔‘‘

ڈاکٹر ریحانہ احمد (انجمن اسلام گرلز اسکول کی ایگزیکٹیو چیئرپرسن)

۱۹۷۹ء کے بیچ کی سابق طالبات سے مل کر خوشی ہوئی

’’ایک عرصہ بعد اپنے اسکول میں آکر بڑی خوشی ہو رہی ہے۔ اسکول سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میں بھی اس اسکول کا ایک حصہ ہوں۔ یہاں موجود ۱۹۷۹ء کے بیچ کی سابق طالبات کو دیکھ کر بڑی خوشی ہو رہی ہے۔ ان میں سے کئی ڈاکٹرس اور پروفیسرس زبن گئی ہیں جس کا پورا کریڈٹ سیف طیب جی اسکول کو جاتاہے۔اسکول روزبروز ترقی کرے، اسی دعا کے ساتھ اپنی گفتگو ختم کرتی ہوں۔‘‘

زاہدہ ابو عاصم اعظمی (سابق طالبہ)

پرنسپل ذکیہ شریف کی بات ذہن میں یاد رہ گئی

’’میری پرانی طالبات، ساتھی اور ٹیچرس ایک ساتھ یہاں موجود ہیں، انہیں دیکھ کر ملنے والی خوشی پر قابو پانا مشکل ہے۔ اس موقع پر اسکول کی سابق طالبہ اور پرنسپل ذکیہ شریف کی ایک بات شدت سے یاد آرہی ہے۔ انہوں نے اسکول میں منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے صرف ایک جملہ کہا تھا ’’دنیا میں اپنی شناخت قائم کرو‘‘ آج یہاں موجود سابق طالبات، جن میں ڈاکٹر، سی اے، پروفیسر، پرنسپل اور ٹیچر موجود ہیں، انہیں دیکھ کر سوچ ہو رہی ہوں کہ اس جلسہ میں ان میں سے کتنی طالبات موجود تھیں، جنہوں نے اپنی شناخت بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔‘‘

نجمہ قاضی (سابق طالبہ اور پرنسپل)

اُرد و میڈیم  سے پڑھ کر طب میں شناخت بنائی

’’پرنسپل نجمہ قاضی میری آئیڈیل تھیں، ہیں اور رہیں گی۔ انہوں نے پرنسپل ذکیہ شریف کے جس جملے (دنیا میں اپنی شناحت قائم کرو) کا حوالہ دیا ہے،غالباً اس تقریب میں، میںموجود تھی۔ اللہ تعالیٰ کا بے پنا ہ شکرادا کرتی ہوں کہ اُرد و میڈیم سے پڑھائی کر کے طب کے شعبہ میں اپنی  شناخت بنائی ہےجو میرے اساتذہ کی محنت،کاوش اور قربانی کانتیجہ ہے۔‘‘

ڈاکٹر الماس خان (سابق طالبہ)

جمانی میڈم کے جذبہ کو نہیں بھول پائی

’’ایس ایس سی امتحان کےقریب اسکول سے میری جیومیٹری اور الجبرا کی وہ بیاض گم گئی تھی جس میں ۱۰؍ سال کے سوالیہ پرچوں کو حل کیا گیا تھا۔ اس وقت ہماری ٹیچر جمانی میڈم  جن کے گھرمیں کو ئی بیمار تھا، اس کے باوجودانہوں نے  رات بھر بیٹھ کر ۱۰؍ سال کا پرچہ حل کر کے دیا تھا جس کی مدد سےمجھے امتحان میں کامیابی ملی تھی۔ میں میڈم کےاس جذبہ کو نہیں بھولی ہوں۔‘‘
ڈاکٹرافشاں لاہیجی (سابق طالبہ)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK