امریکہ نے آئی سی جے میں اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا، یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو مسلسل سفارتی اور قانونی حمایت فراہم کرنے کی ایک اور کڑی ہے۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 10:05 PM IST | Hague
امریکہ نے آئی سی جے میں اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا، یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو مسلسل سفارتی اور قانونی حمایت فراہم کرنے کی ایک اور کڑی ہے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کے خلاف دائر کیے گئے نسل کشی کے مقدمے میں امریکہ سمیت متعدد ممالک نے مداخلت کے اعلانات جمع کرا دیے ہیں۔ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو مسلسل سفارتی اور قانونی حمایت فراہم کرنے کی ایک اور کڑی ہے، جو اس وقت نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کررہا ہے۔عدالت کی طرف سے۱۳؍ مارچ کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، نمیبیا، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ہنگری اور فجی نے عدالت کے آئین کے آرٹیکل۶۳؍ کے تحت اپنے اعلانات جمع کرائے ہیں۔واضح رہے کہ یہ آرٹیکل ان ریاستوں کو، جو زیرِ سماعت معاہدے کی فریق ہیں، کارروائی میں مداخلت کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے قبل نیدرلینڈز اور آئس لینڈ بھی اسی آرٹیکل کے تحت اعلانات جمع کرا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل جنگ شدت اختیار کر گئی، میزائل حملے اور بیانات تیز
اس مقدمے کا باضابطہ عنوان "غزہ کی پٹی میں نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا سے متعلق کنونشن کا اطلاق (جنوبی افریقہ بمقابلہ اسرائیل) ہے اور اسے جنوبی افریقہ نے دسمبر۲۰۲۳ء میں دائر کیا تھا۔ افریقہ کا الزام ہے کہ اسرائیل محصور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کارروائیاں کر رہا ہے۔جبکہ اپنے اعلان میں، واشنگٹن نے اسرائیل کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے نسل کشی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ امریکہ نے کہا، ’’اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات جھوٹے ہیں۔‘‘اور مزید کہا کہ اسرائیلی ریاست کو غیر قانونی قرار دینے کی کوششوں کے تحت بین الاقوامی فورم میں اس طرح کے الزامات بار بارعائد کیے گئے ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین سمیت متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگایا ہے، جہاں کم از کم۷۲۰۰۰؍ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔امریکہ کے موقف کے مطابق، نسل کشی کے جرم کے ثبوت کے لیے کسی محفوظ گروپ کو مکمل طور پر یا اس کے بڑے حصے تباہ کرنے کے واضح ارادے کا ثبوت ہونا ضروری ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ مسلح تصادم کے دوران پیش آنے والے واقعات جیسے شہری ہلاکتیں، خود بخود نسل کشی نہیں سمجھی جا سکتیں جب تک کہ ایسا ارادہ حتمی طور پر ثابت نہ کیا جائے۔امریکہ نے مزید کہا کہ عدالت کو نسل کشی کے الزامات والے مقدمات میں ثبوت کے بہت اعلیٰ معیار کا اطلاق کرنا چاہیے اور الزام عائد کرنے سے پہلے یہ یقینی ہونا چاہیے کہ طرزِ عمل سے صرف اور صرف نسل کشی کا ارادہ ہی نکلتا ہو۔
بعد ازاں واشنگٹن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نسل کشی کے الزامات کا جائزہ لیتے وقت مسلح تصادم کے تناظر پر غور کیا جانا چاہیے۔ اس نے کہا کہ شہری علاقوں میں جنگ کے دوران شہریوں کو پہنچنے والا نقصان ضروری نہیں کہ نسل کشی کے ارادے کی نشاندہی کرتا ہو اور اس سلسلے میں بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں جیسے تناسب اور امتیاز کی طرف توجہ دلائی۔یہ مداخلت امریکہ کی اس کوشش کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ عدالت کی جانب سے نسل کشی کنوننس کی اہم دفعات، خاص طور پر آرٹیکل اول، دوم اورسوم کی تشریح کے طریقہ کار کو متاثر کرے۔اس مقدمے کی عالمی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد ریاستوں نے کارروائی میں مداخلت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ کولمبیا، میکسیکو، ترکی، اسپین، آئرلینڈ، برازیل اور بیلجیم سمیت کئی ممالک حالیہ مہینوں میں اپنی مداخلت جمع کرا چکے ہیں۔
عدالت کے طریقہ کار کے تحت، اسرائیل اور جنوبی افریقہ دونوں کو مداخلت کے نئے اعلانات پر تحریری تبصرے جمع کرانے کی دعوت دی گئی ہے۔آئی سی جے نے جنوری ۲۰۲۴ء میں عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے جو نسل کشی کنونشن کے تحت آ سکتی ہیں اور غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دے۔ تاہم، اس مقدمے میں حتمی فیصلہ آنے میں برسوں لگنے کی توقع ہے۔