ہندوستانی ہوائی کمپنیوں کو نقصان کی تلافی کیلئے ۱۰؍ سال تک کاوقت لگ سکتا ہے

Updated: October 14, 2020, 12:10 PM IST | Agency | New Delhi

پہلی سہ ماہی کے بعد دوسری سہ ماہی میں ایئر لائن انڈسٹری کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ کورونا بحران کے دوران رُکے ہوئے کاروبار سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے

Air India - PIC : INN
ایئر انڈیا ۔ تصویر : آئی این این

پہلی سہ ماہی کے بعد دوسری سہ ماہی میں ایئر لائن انڈسٹری کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ کورونا بحران کے دوران رُکے ہوئے کاروبار سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ امریکی ایئر لائن کمپنیوں کے مطابق ، انھیں دوسری سہ ماہی میں مجموعی طور پر۱۲؍ ارب ڈالر(۸۷ء۹۵؍ ہزار کروڑ) کا نقصان ہوا۔  مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیسری سہ ماہی میں بھی ، کمپنیوں کو۱۰؍ ارب ڈالر(۷۳ء۲۹؍ ہزار کروڑ روپے) سے زیادہ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کورونا بحران کے دوران دوسری سہ ماہی میں امریکی ایئر لائن کمپنیوں کےمحصولات میں بھی۸۶؍فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ امریکی ہوائی کمپنی ڈیلٹا ایئر لائنز منگل کو اپنے دوسرے سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کرنے والی تھی۔ جبکہ رکیٹ کے ماہرین کی پیش گوئی تھی کہ کمپنی کو ایک بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ایئر لائن کے شعبے میں زبردست سست روی کا شکار یہ صورتحال یورپی اور ایشیائی ممالک میں بھی ہے۔ اس میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ ایئر لائن کے شعبے میں ہونے والی زبردست گراوٹ کی بنیادی وجہ کورونا وبا ہے۔ کیونکہ  اس وبا پر قابو پانے کیلئے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کے اثرات سے  اب تک ہوابازی کی صنعت پوری طرح نکل نہیںسکی ہے۔
ایئر لائن کمپنیوں کی آمدنی میں۸۶؍ فیصد کمی واقع ہوئی
 ہندوستان میں وبا کے دوران ملک گیر لاک ڈاؤن کے باعث ایئر لائن کمپنیوں کو  بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اپریل-جون کے دوران انڈین ایئر لائن کی آمدنی میں۸۵ء۷؍ فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس عرصے میں تقریباً۱۸؍ ہزار ملازمتیں بھی ختم ہوگئیں۔اس سے قبل مئی میں  ریٹنگ ایجنسی کرسل نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہندوستانی ایئر لائنز کی صنعت کو۲۴۔۲۵؍ ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوگا۔ اس میں  ایئر لائنز کو۱۷؍ ہزار کروڑ اور ایئرپورٹ آپریٹرز کو۵ ؍سے۵۰؍ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ اس کے علاوہ ائیرپورٹ رٹیلرس کو بھی۱۷۰۰؍ سے۱۸۰۰؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔
بازیابی میں۱۰؍سال لگ سکتے ہیں
 کرسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی ہوائی کمپنیوں کو اس نقصان سے بحالی میں کم از کم۱۰؍ سال لگ سکتے ہیں۔ اس شعبے میں بھی۱۱؍ فیصدسالانہ نمو کی ضرورت ہوگی۔ اعدادوشمار کے مطابق، ہندوستان میں  مسافروں کی آمدورفت کی شرح۳۴۱ء۰۵؍ملین ہے۔ یہ تعداد مالی سال۲۰ءکے اگست کے مہینے پر مبنی ہے۔بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے ، اس شعبے میں ایئر لائنز کے آپریشن کو بڑھانے کے لئے بھی کام کیا جارہا ہے۔ آئی بی ای ایف نے اپنی رپورٹ میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ۲۰۲۷ء تک ہندوستان میں ہوائی جہازوں کی تعداد۱۱۰۰؍ہوجائے گی لیکن منصوبہ اب کورونا کی وجہ سے متاثر ہوسکتا ہے۔
بھاری نقصان کی وجہ سے کیا اثر پڑے گا؟
 ایئر لائنز کے شعبے میں بھاری نقصان کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ دوسرے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں بھاری قرض کی وجہ سے ایئر لائن کمپنیاں بند ہورہی ہیں۔ اس لئے ، حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں اور گھریلو سرمایہ کاروں کو بھی سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کارراغب نہیںہورہے ہیں۔ جبکہ ، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں ایئر لائنز کی صنعت کے لئے۲۰؍ ملین ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
ملازمت کے خدشات
 اس شعبے میں ہونے والے بڑے نقصانات پر قابو پانے کے لئے ، مقامی حکومتیں امدادی پیکیج دے رہی ہیں یا اس اسکیم پر کام کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ روزگار ہے۔ ہندوستان میں اس شعبے سے وابستہ۱۸؍ ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ اس کی تعداد امریکہ میں زیادہ ہے۔ امریکہ میں جدوجہد کرنے والی بیشتر ایئرلائن کمپنیوں نے بھی اپنے ملازمین کو طویل چھٹی پر بھیج دیا ہے۔یکم اکتوبر سے امریکہ میں چھٹیوں پر پابندی ختم ہوتے ہی ، امریکن ایئر لائنز (اے اے ایل) نے۱۹؍ہزار ملازمین کو کمپنی سے باہرکا راستہ دکھایا۔ اس کے علاوہ یونائیٹڈ ایئر لائنز(یو اے ایل) نے اضافی۱۳؍ ہزار ملازمین کو بھی نکال دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK