Updated: October 21, 2026, 3:35 PM IST
| New Delhi
اٹلی اور البانیہ میں مہنگائی، ناقص عوامی سہولیات، یونیورسٹیوں کی ابتر صورتحال اور بدعنوانی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے پیشِ نظر ہندوستان نے اپنے شہریوں کے لیے حفاظتی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ روم اور تیرانا میں واقع ہندوستانی سفارتی مشنوں نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بھیڑ والے علاقوں اور احتجاجی مقامات سے دور رہیں، مقامی خبروں پر نظر رکھیں اور حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
اٹلی میں مہنگائی اور عوامی سہولیات کے معیار کے خلاف احتجاج کے دوران میلان میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ رائٹرز کے مطابق، سنیچر اور اتوار کو ہونے والی بدامنی کے دوران پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جب کہ بعض مظاہرین نے دکانوں کو نقصان پہنچایا اور آگ لگائی۔ شمالی اٹلی کے دیگر شہروں بولوگنا، بریشیا، برگامو اور تورین میں بھی احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات سامنے آئے۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا۔ روم میں قائم ہندوستانی سفارت خانے نے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں شہریوں کو احتیاط برتنے، بھیڑ والے علاقوں اور احتجاجی مقامات سے دور رہنے اور مقامی خبروں کے ذریعے حالات سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا۔ سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا، ’’ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ احتیاط برتیں، بھیڑ والے علاقوں اور ان مقامات سے گریز کریں جہاں احتجاج ہو رہا ہے، اور ایسے واقعات سے متعلق مقامی خبروں پر نظر رکھیں۔‘‘ سفارت خانے نے ہنگامی حالات میں رابطے کے لیے روم میں ہندوستانی سفارت خانے اور میلان میں ہندوستانی قونصل خانے کے فون نمبر بھی فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھئے: کارٹونسٹ ستیش اچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ۳؍ ہفتوں میں دوسری بار ہندوستان میں بلاک
دوسری جانب، البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں حکومت مخالف مظاہرے کئی روز سے جاری ہیں۔ مظاہرین یونیورسٹیوں کی صورتحال بہتر بنانے، تعلیمی اخراجات کم کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور وزیرِ اعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاج میں طلبہ کے ساتھ حکومت کے دیگر مخالفین بھی شامل ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا، جب کہ بعض مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور پیٹرول بم پھینکے۔ سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچنے اور ایک پولیس اسٹیشن میں آگ لگائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، تیرانا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد البانیہ کے وزیرِ اعظم ایڈی راما نے پیر کو مظاہرین پر الزام لگایا کہ انہوں نے ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے۔ حکومت مخالف مظاہروں میں طلبہ کے مطالبات کے ساتھ بدعنوانی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ناراضی بھی شامل ہوگئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے استعفے کے مطالبے کو مسترد کیا ہے، جب کہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو تعلیم اور بدعنوانی سے متعلق ان کے خدشات کا جواب دینا چاہیے۔
تیرانا میں واقع ہندوستانی سفارتی مشن نے بھی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا، ’’یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ تیرانا اور یہاں تک کہ البانیہ ایک چھوٹا شہر اور ملک ہے، اس لئے یہاں بدامنی اور کشیدگی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔‘‘ سفارتی مشن نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایڈوائزری میں خاص طور پر تیرانا سٹی سینٹر، مارٹرز آف دی نیشن بلیوارڈ اور مدر ٹریسا اسکوائر کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہندوستانی شہریوں کو ان علاقوں کے علاوہ سرکاری عمارتوں اور ایسے مقامات سے بھی دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے جہاں احتجاج یا پُرتشدد جھڑپوں کا خدشہ ہو۔ سفارتی مشن نے زور دیا ہے کہ شہری مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور حالات کی تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آج ملکارجن کھرگے کی وزیراعظم مودی سے ملاقات، ایس آئی آر کا معاملہ اٹھائیں گے
اٹلی اور البانیہ میں احتجاج کی وجوہات مختلف ہونے کے باوجود دونوں ملکوں میں عوامی بے چینی کے ساتھ بعض مقامات پر تشدد بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ اٹلی میں احتجاج کا مرکزی سبب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی خدمات کی خراب صورتحال ہے، جب کہ البانیہ میں طلبہ کی تعلیمی سہولیات سے متعلق شکایات کے ساتھ بدعنوانی اور حکومت کی تبدیلی کے مطالبات بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ہندوستانی سفارتی مشنوں کی ایڈوائزری کا بنیادی مقصد وہاں موجود ہندوستانی شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا اور انہیں احتجاجی مقامات سے دور رہنے کی ترغیب دینا ہے۔