• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج ملکارجن کھرگے کی وزیراعظم مودی سے ملاقات، ایس آئی آر کا معاملہ اٹھائیں گے

Updated: October 21, 2026, 12:19 PM IST | Agency | New Delhi

خواتین ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر اور پارلیمانی حد بندی سے متعلق مرکزیحکو مت کی کوششوں پر بھی گفتگو ہوگی، کانگریس صدر نے کہا: میں انہیں ہر بات سمجھاؤں گا۔

Mallikarjun Kharge. Picture: INN
ملکارجن کھرگے۔ تصویر:آئی این این

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے  بدھ کو وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔  ایس آئی آر کے حوالے سے وزیراعظم کو لکھے گئے کئی خطوط کے بعد ہونےوالی اس ملاقات میں کھرگے نے ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں لوگوں کے نام کاٹے جانے کو پوری شدت سے اٹھانے کا واضح اشارہ دیا ہے۔  انہوں  نے کہا کہ ۲۱؍ اکتوبر کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات  میں  ایس آئی آر،پارلیمانی بندی اور خواتین ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر سے متعلق خدشات پیش کریں  گے۔

نئی دہلی میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ’’میں نے ذاتی طور پر وزیر اعظم کو خط لکھے  ہیں ، ان کے پاس میرے دو خطوط ہیں۔‘‘انہوں نے کہاکہ ’’میں کل انہیں ہر بات سمجھاؤں گا، جس میں  ایس آئی آر کے نقصانات، ان کی طرف سے تجویز کردہ پارلیمانی  حد بندی کے اثرات اور خواتین کے ریزرویشن کا معاملہ شامل ہے۔‘‘ کھرگے نے نشاندہی کرتے ہوئے کہ اسے تو پارلیمنٹ کی منظوری مل چکی ہے، سوال کیا کہ ’’ وہ اسے نافذ کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ میں کل ان تمام امور پر انہیں  سمجھاؤں گا۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی میں پرائمری کے تمام اساتذہ کے تقرری ناموں کی جانچ کاحکم

‘‘کھرگے کا یہ باتیں اس وقت کہیں جب صحافیوں نے ان سے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو کے خط پر ردعمل جاننا چاہا۔ رجیجو نے۱۶؍اکتوبر کو کھرگے کی جانب سے لکھے گئے اس خط کا جواب دیا تھا، جس میں پارلیمانی سیٹوں کی مجوزہ حلقہ بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل  کل جماعتی  میٹنگ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ رجیجو نے ’ایکس‘ پر اپنے خط کو پوسٹ کرتے ہوئے کھا ہے کہ حکومت نے مارچ اور اپریل میں تحریری پیغامات کے ذریعے اور کھرگے نیز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے ساتھ بات چیت کے دوران مجوزہ بل پر کانگریس سے تعاون کی اپیل کی تھی۔رجیجو کا الزام  ہےکہ بار بار درخواست  کے باوجود کانگریس نے گفتگو کیلئے کوئی تاریخ نہیں دی جس کے بعد حکومت نے ڈی ایم کے، سماج وادی پارٹی، وائی ایس آر کانگریس پارٹی، این سی پی ، شیو سینا (اُدھو)،  ایم آئی ایم  اور بیجو جنتا دل سمیت دیگر جماعتوں سے  صلاح  و مشورہ کیا۔ رجیجو نے اس اعتراض کو بھی مسترد کیا کہ۱۳؍ اگست کو  مانسون اجلاس کے  غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے کے بعد  اجلاس کو باضابطہ طور پر ختم نہ کرنا طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میںاجلاس ختم کرنے کیلئےکسی مخصوص مدت کی پابندی مقرر نہیں کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK