• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ڈل جھیل میں موٹر بوٹس اور ایندھن سے چلنے والی جیٹ اسکیز پر پابندی لگائی

Updated: October 16, 2026, 1:41 PM IST | Srinagar

جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ڈل جھیل کو آلودگی سے بچانے کیلئے متوازن اور یکساں ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا اور نوٹ کیا کہ جھیل کا ماحولیاتی نظام ماحول سے متعلق ایک بڑھتی ہوئی تشویش بن چکا ہے۔ عدالت نے پالیسی سازی میں انصاف اور تسلسل کی اہمیت پر بھی زور دیا، خاص طور پر ایسی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرتے ہوئے جو جھیل کے نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

Dal Lake. Photo: X
ڈل جھیل۔ تصویر: ایکس

ڈل جھیل کو آلودگی سے بچانے کے ایک اہم اقدام کے تحت، جموں کشمیر ہائی کورٹ نے جھیل میں موٹر والی شکاراؤں (موٹر بوٹس) اور ایندھن سے چلنے والی جیٹ اسکیز کے چلانے پر پابندی عائد کر دی ہے اور حکام کو شمسی توانائی (سولر) اور بجلی سے چلنے والے متبادلات تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی اور جسٹس راجیش سیکھری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جمعرات کو یہ ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (LCMA)، محکمہ سیاحت اور پولیس کو سختی سے اس حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے متنبہ کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کو توہینِ عدالت تصور کیا جائے گا اور غیر مجاز آپریشنز کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھئے: کشمیر: جمعہ خطبات کیلئے یکساں موضوعات کی تجویز پر تنازع، وقف بورڈ کی وضاحت

بینچ نے تبصرہ کیا کہ ”شمسی کشتیاں اور برقی کشتیاں سیاحت اور جھیلوں کی بقاء کے درمیان توازن قائم کرنے کیلئے ایک حل ہو سکتی ہیں۔“ اس پابندی کا اطلاق ہنگامی خدمات، امن و امان اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ کیلئے انتظامیہ کی جانب سے تعینات موٹر بوٹس پر نہیں ہوگا۔

عدالت نے ڈل جھیل کو آلودگی سے بچانے کیلئے متوازن اور یکساں ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا اور نوٹ کیا کہ جھیل کا ماحولیاتی نظام ماحول سے متعلق ایک بڑھتی ہوئی تشویش بن چکا ہے۔ عدالت نے پالیسی سازی میں انصاف اور تسلسل کی اہمیت پر بھی زور دیا، خاص طور پر ایسی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرتے ہوئے جو جھیل کے نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

کارروائی کے دوران سینئر وکیل بی اے بشیر اور وکیل فلک بشیر نے دلائل دیئے کہ موٹر بوٹس، جیٹ اسکیز اور دیگر موٹرائزڈ واٹر کرافٹ جھیل کی ماحولیاتی صحت کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے عدالت پر زور دیا کہ وہ ایسی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے یکساں، شفاف اور ماحول دوست معیارات مقرر کرے۔

یہ بھی پڑھئے: آٹھ ماہ کی محنت ضائع، اجنارندی میں دوبارہ کچرا جمع، بٹو تباہی پھر صفائی میں مصروف

ہائی کورٹ کا یہ حکم کشمیر کے نمایاں ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک، ڈل جھیل کی بگڑتی ہوئی حالت پر جاری تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ جھیل کو تجاوزات، اس کے اطراف میں تعمیرات اور کھلے پانی کے رقبے میں کمی کے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) کی ایک رپورٹ میں ۲۰۰۷ء اور ۲۰۲۰ء کے درمیان کھلے پانی کے رقبے میں ۱۵ء۱۰ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو ۴۰ء۱۵ مربع کلومیٹر سے گھٹ کر ۹۱ء۱۲ مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK