Updated: October 14, 2026, 10:03 PM IST
| Srinagar
جموں کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام مساجد اور زیارت گاہوں میں جمعہ کے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات طے کرنے کی تجویز پر وادی میں سیاسی اور مذہبی حلقوں نے سخت اعتراض کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی اور متحدہ مجلسِ علماء نے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔
جموں کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے یونین ٹیریٹری کے زیرِ انتظام مساجد، جامع مساجد اور زیارت گاہوں میں جمعہ کے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات متعارف کرانے کی تجویز نے مذہبی خودمختاری اور سرکاری اداروں کے دائرۂ اختیار سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تجویز پر سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں نے اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ مذہبی خطبات کے موضوعات طے کرنے کا اختیار علما اور متعلقہ مذہبی اداروں کے پاس رہنا چاہیے۔ وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی کی صدارت میں ۱۰؍ اکتوبر کو سری نگر میں علما، مفتیان، ائمہ اور خطبا کا اجلاس ہوا تھا۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۱۵۰۰؍ مذہبی رہنماؤں اور اسلامی اسکالرز نے اس میں شرکت کی، جب کہ جموں خطے کے مذہبی نمائندے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد وقف بورڈ کی جانب سے بتایا گیا کہ علما کے درمیان بہتر تال میل اور بورڈ سے وابستہ مذہبی اداروں میں جمعہ کے خطبات کے موضوعات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک بنیادی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کمیٹی کو موضوعات پہلے سے طے کرکے متعلقہ مذہبی اسکالرز تک پہنچانے کی ذمہ داری دی جانی تھی۔ بورڈ کے مطابق، مجوزہ موضوعات میں دینی بیداری، اخلاقی اقدار، سماجی ہم آہنگی، اتحاد اور عوامی و سماجی مفاد کے مسائل شامل ہوسکتے ہیں۔ اندرابی نے اس اقدام کا مقصد مذہبی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا اور معاشرے میں اخلاقی ذمہ داری، رواداری اور اتحاد کو فروغ دینا بتایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش واپسی کا مقصد جمہوریت کی بحالی: شیخ حسینہ
عمر عبداللہ نے اسے ناقابلِ قبول مداخلت قرار دیا
تجویز سامنے آتے ہی جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے اسے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں بی جے پی کی مداخلت قرار دیتے ہوئے وقف بورڈ کی چیئرپرسن سے اقدام روکنے کا مطالبہ کیا۔ عمر عبداللہ کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ کسی انتظامی ادارے کو یہ طے کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ ائمہ مساجد جمعہ کے خطبات میں کن موضوعات پر گفتگو کریں۔ ان کے مطابق، مذہبی رہنماؤں کو اپنے علمی فہم اور مقامی حالات کے مطابق رہنمائی کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
سری نگر سے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے بھی تجویز کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر منبر سیاسی اقتدار کے سامنے جھک جائے تو اس کی اصل معنویت ختم ہوجاتی ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’منبر کبھی جھکنے کے لیے نہیں بنا تھا اور اسے کبھی جھکنا بھی نہیں چاہیے۔‘‘ روح اللہ مہدی نے اس منصوبے کو مذہبی امور میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کمیٹی یہ طے نہیں کرسکتی کہ مساجد میں مذہبی رہنما کیا کہیں۔ انہوں نے وقف بورڈ سے تجویز واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کی تردید کے باوجود ٹرمپ ، نیتن یاہو کا ایران پر حملوں پر غور: رپورٹ
متحدہ مجلسِ علماء نے منبر کو امانت قرار دیا
میرواعظ عمر فاروق کی قیادت میں متحدہ مجلسِ علماء (ایم ایم یو) نے بھی جمعہ کے خطبات کے موضوعات کسی قانونی یا انتظامی ادارے کی جانب سے طے کیے جانے کی مخالفت کی۔ ۱۳؍ اکتوبر کو جاری بیان میں تنظیم نے کہا کہ منبر ایک امانت ہے اور مذہبی رہنمائی کا بنیادی اختیار علما، ائمہ اور تسلیم شدہ مذہبی اداروں سے متعلق ہے۔ تنظیم کے مطابق، مذہبی رہنمائی اسلامی علوم، علمی روایت اور مختلف مکاتبِ فکر کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔ ایم ایم یو نے وقف بورڈ پر زور دیا کہ وہ وقف املاک کے انتظام، دیکھ بھال اور تحفظ جیسی انتظامی ذمہ داریوں تک محدود رہے اور مذہبی خطبات کے مواد کا تعین کرنے سے گریز کرے۔ تنظیم نے رضاکارانہ طور پر علما کے درمیان مشترکہ سماجی مسائل پر گفتگو اور کسی انتظامی ادارے کی جانب سے خطبات کے موضوعات طے کرنے کے درمیان فرق واضح کیا۔ اس کے مطابق، منشیات، اخلاقی مسائل اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر علما کا باہمی تعاون ایک الگ معاملہ ہے، جب کہ کسی ادارے کی طرف سے موضوعات مسلط کرنا مذہبی خودمختاری سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کے اعتراضات
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی تجویز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے خطبات میں مقامی حالات اور لوگوں کو درپیش مسائل کو جگہ ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق، مختلف علاقوں کی سماجی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوتیں، اس لیے ہر مسجد کے لیے ایک ہی طرز کے موضوعات مقرر کرنا مناسب نہیں۔ محبوبہ مفتی نے وقف بورڈ کے انتظامی کردار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مذہبی معاملات میں رہنمائی تسلیم شدہ علما اور مذہبی اداروں کی جانب سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے وقف امور کا انتظام منتخب حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران ڈار نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس تجویز سے بی جے پی کو کشمیر بھر کی مساجد کے خطبات پر اثرانداز ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’اب بی جے پی کشمیر بھر کی مساجد کے لیے جمعہ کے خطبات کا مسودہ تیار کرے گی۔‘‘ نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق نے بھی تجویز واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ سابق میئر سری نگر جنید عظیم متو نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی اقتدار یہ طے کرے گا کہ ائمہ جمعہ کے خطبات میں کیا کہیں تو مذہبی آزادی کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ پی ڈی پی کے رہنما اور لال چوک کے رکن اسمبلی احسان پردیسی نے کہا کہ عقیدے کو مسلط نہیں کیا جاسکتا اور خطبات کو سیاسی طور پر مرتب نہیں کیا جانا چاہیے۔ نیشنل کانفرنس کے رہنما سلمان علی ساگر نے بھی سوال کیا کہ کیا اب ائمہ کے خطبات سیاسی جانچ پڑتال کے تابع ہوں گے؟ ان رہنماؤں کا مشترکہ مؤقف تھا کہ مذہبی گفتگو کو سیاسی ہدایات کے بجائے اسلامی تعلیمات اور مقامی کمیونٹی کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: خسرہ کی وباء، ۹۰۰؍ ہلاکرتیں، ویکسینیشن کی اہمیت پر زور
شدید مخالفت کے بعد وقف بورڈ کی وضاحت
سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے مسلسل اعتراضات کے بعد وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے واضح کیا کہ بورڈ نے اپنے زیرِ انتظام مساجد میں یکساں جمعہ خطبات کو لازمی بنانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔ اندرابی کے مطابق، مشترکہ موضوعات کی تجویز مذہبی علما کے درمیان ہونے والی گفتگو سے سامنے آئی تھی، اور اس کا مقصد سماجی مسائل پر بہتر تال میل پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے اس اقدام کو حکومت کی جانب سے مذہبی بیانیے پر کنٹرول کے طور پر پیش کیے جانے کی تردید کی۔ اس وضاحت کے بعد معاملے کی حیثیت میں ایک اہم فرق سامنے آیا ہے: ابتدائی اعلان میں کمیٹی کے ذریعے موضوعات طے کرکے متعلقہ مذہبی اسکالرز تک پہنچانے کی بات کی گئی تھی، لیکن بعد کی وضاحت میں بورڈ نے کہا کہ خطبات کو یکساں بنانا لازمی قرار دینے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ اس لیے فی الحال اس تجویز کو نافذ شدہ لازمی پالیسی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
مذہبی آزادی اور انتظامی اختیار پر بحث
اس تنازع نے جموں کشمیر میں وقف بورڈ کے انتظامی کردار اور مذہبی اداروں کی خودمختاری کے درمیان حدود سے متعلق بحث کو نمایاں کردیا ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے مشترکہ موضوعات کی تجویز کو سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی رہنمائی کے مقصد سے جوڑا گیا، جب کہ مخالفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انتظامی ادارے خطبات کے مواد کا تعین کرنے لگے تو مذہبی آزادی اور مقامی علما کے اختیار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس معاملے میں ایک بنیادی فرق رضاکارانہ تعاون اور لازمی ہدایات کے درمیان ہے۔ مذہبی رہنما اگر اپنی مرضی سے منشیات کے استعمال، خاندانی مسائل، اخلاقی اقدار یا سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر مشترکہ طور پر بات کریں تو یہ ان کا باہمی فیصلہ ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر کسی ادارے کی جانب سے خطبات کے موضوعات لازمی قرار دیے جائیں تو اس کے دائرۂ اختیار اور مذہبی آزادی پر اثرات سے متعلق سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اب تک سامنے آنے والی وضاحت کے مطابق وقف بورڈ نے خطبات کو لازمی طور پر یکساں بنانے کا حکم جاری نہیں کیا۔ تاہم، مشترکہ موضوعات کی تجویز، اس پر سیاسی و مذہبی مخالفت اور بورڈ کی بعد کی وضاحت نے مذہبی اداروں کے انتظام اور مذہبی رہنمائی کی خودمختاری کے معاملے کو جموں کشمیر میں ایک اہم عوامی بحث بنا دیا ہے۔