Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے ایک بیٹے کو اپنے باپ کی قبر کھود کر لاش لے جانے پر مجبور کیا

Updated: May 14, 2026, 10:29 AM IST | Agency | Jerusalem

قے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے ذریعے انتہائی غیر انسانی رویے کا مظاہر سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک شخص کو اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے والد کی دفن کی گئی لاش کو قبر کھود کر لے جائے۔

Palestinian Land, Jewish Occupation.Photo:INN
زمین فلسطینیوں کی، قبضہ یہودیوں کا-تصویر:آئی این این
 فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے ذریعے انتہائی غیر انسانی رویے کا مظاہر سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک شخص کو اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے والد کی دفن کی گئی لاش کو قبر کھود کر لے جائے کیونکہ وہ اسے اپنے علاقے میں دفن کرنے نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس تعلق سے بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق  محمد عصاصہ اپنے ۸۰؍ سالہ والد حسین کو دفنا کر لوٹے ہی تھے کہ کچھ بچے چلاتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے اور کہا ’’آبادکار قبر کو کھود رہے ہیں!‘گزشتہ ہفتے جمعے کے روز وفات پانے والے حسین کا تعلق غربِ اردن (جسے مغربی کنارہ بھی کہا جاتا ہے) کے علاقے جنین کے ایک چھوٹے سے گاؤں عصاصہ سے تھا۔وہ مویشیوں کا کاروبار کرتے تھے اور ان کی علاقے میں کافی عزت تھی۔ ۱۰؍ بچوں کے والد حسین عصاصہ کو گاؤں کی دوسری جانب ایک ٹیلے پر واقع قبرستان میںاسلامی روایات کے مطابق انتہائی سادگی کے ساتھ دفنایا گیا تھا۔محمد عصاصہ کہتے ہیں کہ کوئی پریشانی نہ ہو اسلئے انھوں نے اپنے والد کی تدفین کے لیے قریبی اسرائیلی فوجی اڈے سے اجازت بھی لی تھی۔
اطلاع ملنے کے آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں محمد اور ان کے بھائی تدفین کے مقام پر موجود تھے، جہاں یہودی آبادکاروں کا ایک گروہ اوزاروں کی مدد سے ان کے والد کی تازہ تازہ بنائی گئی قبر کو کھود رہا تھا۔ ان میں سے کچھ افراد مسلح بھی تھے۔شروع میں محمد نے ان آبادکاروں سے بات کر کے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ جب وہ نہیں مانے تو وہ اپنے والد کی قبر کی جانب بھاگے۔ تب تک یہودی آبادکار قبر کو کافی حد تک کھود چکے تھے اور حسین کی لاش اور آبادکاروں کے درمیان صرف ایک سلیب ہی باقی تھی۔محمد بتاتے ہیں، ’وہ ان کی لاش تک پہنچنے والے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اسے نکالنے والے تھے، اسلئے ہمیں وہیں کھڑے کھڑے فیصلہ لینا پڑا۔‘ان آبادکاروں کا تعلق قبرستان کے نزدیکی ٹیلے کے اوپر حال ہی میں دوبارہ قائم کی گئی بستی سانور سے تھا۔
 
 
 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی سرزمین پر بنائی گئی تمام بستیاں غیر قانونی ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت نے حال ہی میں سانور کو دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ اسرائیلی حکومت کے مقبوضہ غربِ اردن میں نئی بستیوں کے قیام اور وسعت کے متنازع منصوبے کا حصہ ہے۔موبائل فون کی مدد سے بنائی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آٹو میٹک رائفلز سے لیس آبادکاروں نے محمد اور ان کےبھائی کو دھمکی دی کہ ’یا تو لاش خود کھود کر نکالو ورنہ ہم نکالیں گے۔‘اس کے بعد حسین کے خاندان کے افراد کو ان کی لاش اپنے ہاتھوں سے نکالنی پڑی۔آبادکاروں کا دعویٰ تھا کہ تدفین کی جگہ ان کی آبادی کے بہت نزدیک ہے۔دیگر فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے محمد اور ان کے بھائی کفن میں لپٹی اپنے والد کی لاش کو کندھے پر اٹھا کر قبرستان سے دور لے جا رہے ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس معاملے میں مداخلت کر کے آبادکاروں سے کھدائی کے اوزار چھینے اور صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکا۔تاہم محمد کے گھر والوں کا الزام ہے کہ جب یہودی آبادکار انھیں قبر کھود کر حسین کی لاش نکالنے پر مجبور کر رہے تھے تو اسرائیلی فوجی خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ’کسی بھی ایسے اقدام کی مذمت کرتی ہے جو عوامی نظم و ضبط، قانون کی بالادستی اور زندہ یا مردہ افراد کے وقار کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔‘اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ’فلسطینیوں کے ساتھ رواں غیر انسانی سلوک کی انتہائی دل دہلا دینے والی مثال‘ قرار دیا ہے۔انسانی حقوق کیلئے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کے مقامی سربراہ اجیت سنگھے کا کہنا ہے کہ ’اس سے زندہ یا مردہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔‘مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سانور کی بستی دوبارہ قائم کئے جانے کے بعد سے علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی کا مظہر ہے۔
 
 
حسین عصاصہ کی تعزیت کیلئے آنے والے ایک شخص کا کہنا تھا ’یہ بہت برا ہوا ہے، جب سے وہ (آبادکار) واپس آئے ہیں انھیں لگتا ہے کہ اب پورا علاقہ ان ہی کا ہے۔‘عصاصہ کے بھائیوں میں سے ایک نے بتایا کہ حال ہی میں ان کے ایک اور عزیز کی زمین پر فوج اور آبادکاروں نے دھاوا بول دیا تھا اور بنا کسی وجہ کے ان کے تمام زیتون کے درخت اکھاڑ دیے تھے۔ یہ یہ باتیں بتاتے وقت اس قبرستان کو محفوظ دوری سے دیکھ رہے تھے، جہاں سے انھیں حسین کی لاش نکالنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جب سے یہودی آبادکاروں کو اپنے موبائل گھر علاقے میں لانے اور اسرائیلی فوج کے ایک اڈے کے قریب واقع سانور میں بستی دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دی گئی ہے تب سے علاقے کے ایک بڑے حصے کو ’بند فوجی علاقہ‘ قرار دے دیا گیا ہے۔عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ اب گاؤں کے رہنے والے اپنے زیتون کے باغات، کاشت شدہ کھیت اور حتیٰ کہ قبرستان تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج کے ساتھ طویل اور محتاط رابطہ کاری کے بعد رسائی حاصل ہو بھی جائے تو بھی آبادکاروں کا رویہ بہت جارحانہ اور دھمکی آمیز ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے آبادکار اب کھلے عام اسلحہ اٹھائے نظر آتے ہیں۔مغربی کنارے میں حالیہ عرصے کے دوران آبادکاروں سے منسوب تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کی توجہ دیگر جنگوں اور تنازعات کی جانب مبذول ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK