Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے برطانیہ اور فرانس کے ہرمز میں فوجی موجودگی کے بیان کو رد کردیا

Updated: July 04, 2026, 8:03 PM IST | Tehran

ایران نے برطانیہ اور فرانس کے ہرمز میں فوجی موجودگی کے بیان کو رد کردیا، ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کوئی اسٹیج نہیں ہے، جہاں بین بیرونی فوجیں آکر طاقت کا مظاہرہ کریں۔

Iran`s Deputy Foreign Minister Kazem Gharibabadi. Photo: X
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی۔ تصویر: ایکس

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سنیچر کو کہا کہ آبنائے ہرمز خطے سے باہر کی طاقتوں کے لیے فوجی طاقت کے مظاہرے کا اسٹیج نہیں ہے،ساتھ ہی انہوں نے اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی سرگرمی کے خلاف انتباہ دیا۔غریب آبادی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر لکھا،’’ ایک ذمہ دار طاقت اور آبنائے کی سلامتی کے ضامن کے طور پر، ایران اس حساس آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی سرگرمی کے خلاف خبردار کرتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مرحوم خامنہ ای کے جنازے میں ۱۴؍ ماہ کی پوتی کا تابوت مرکز توجہ، سوشل میڈیا غمگین

واضح رہے کہ انہوں نے یہ تبصرہ ایک پوسٹ میں کیا، جس میں انہوں نے برطانیہ اور فرانس کا آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ بیان شیئر کیا، جس میں دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ ’’وہ آبی گزرگاہ میں آزاد جہاز رانی کی حمایت کے لیے وسیع تر کثیر القومی فوجی مشن کو تعینات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘جس کے جواب میں، غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے کی سلامتی کی ذمہ داری ساحلی ریاستوں پر ہے۔جو لوگ بحران پیدا کرنے کی کوشش کریں وہ اپنی مہم جوئی کے نتائج کی ذمہ داری برداشت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا،’’ یہ ایک سنگین انتباہ ہے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یورپی اداروں کے اسرائیل سے اربوں یورو کے معاہدوں کا انکشاف

ذہن نشین رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمت نامہ، جو پاکستانی ثالثی کے تحت طے پایا۱۸؍ جون کو نافذ العمل ہوا جب اس پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے الیکٹرانک دستخط کیے۔یہ مذاکرات کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان تنازع کے خاتمے اور بقیہ مسائل کے حل کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس میں جنگ کا خاتمہ، پابندیوں میں نرمی، جوہری مسئلہ، آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا، اور وسیع تر علاقائی سلامتی کے انتظامات شامل ہیں۔ اس سے قبل امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے دنیا کے ۲۰؍ فیصد ایندھن کی ترسیل کے اہم بحری راستے ’’ آبنائے ہرمز‘‘ کو بند کردیا تھا، جس کے نتیجے میں تیل کا عالمی بحران پیدا ہوگیا تھا، بعد ازاں امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے بعد ایران نے آبنائے کھول دی، لیکن اس پر اپنا تسلط برقرار رکھا ، حالانکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کا کہنا ہےکہ ہرمز بین الاقوامی راستہ ہے ، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ ہرمز ایران اور عمان کی بحری حدود میں واقع ہے، اور اس کا انتظام دونوں ملک مشترکہ طور پر کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK