جسٹس سری کرشنا نے ملک میں آزادی ٔ اظہار رائے پر خوف کے غلبہ کا حوالہ دیا

Updated: September 05, 2022, 10:26 AM IST | Inquilab News Networks | New Delhi

سابق جج نے مودی پر تنقید کی صورت میں حملے یا گرفتاری کا اندیشہ ظاہر کیا تو رجیجو نے ایمرجنسی کی یاد دلائی، کہا کہ جوکسی روک ٹوک کے بغیر وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں وہی آزادی ٔ اظہار کا رونا رو رہے ہیں

Justice Srikrishna  .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

    ملک میں  آزادی ٔ اظہار رائے کی ابتر صورتحال پر سپریم کورٹ  کے سابق جج ، جسٹس سری کرشنا کے تبصرہ نے وزیر قانون کرن رجیجو کو  چراغ پا کردیا ہے۔ انہوں  نے  جسٹس  سری کرشنا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نہ صرف ایمرجنسی کی یاد دلائی  اور کہا کہ’’  جو لوگ عوام کی اکثریتی پسند کے نتیجے میں منتخب کئے گئے وزیراعظم کو   بغیر کسی روک ٹوک کے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں وہی آزادی ٔ اظہار رائے کا رونا بھی رو رہے ہیں۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں  نے ایمرجنسی کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ لوگ کانگریس کے ذریعہ نافذ کردہ ایمرجنسی کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے، نہ ہی ان میں اس بات کی ہمت ہے کہ چند ریاسی پارٹیوں کے وزرائے اعلیٰ  پر تنقید کریں۔‘‘  وزیر قانون کرن رجیجو نے سپریم کورٹ کے سابق جج کو جنہوں  نے ممبئی فسادات کی جانچ بھی کی تھی، کو تلملا کر جواب اس لئے دیا کہ انہوں  نے   ملک میں آزادی ٔ اظہار کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔  اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ’’جمہوریت میں  حکومت پر تنقید کرنے کا حق بنیادی حق ہے اور کوئی اس پر رکاوٹ نہیں لگا سکتا۔‘‘اس کے ساتھ ہی انہوں  نے موجودہ حالات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا  کہ ’’آج حالات بہت خراب ہیں، مجھے یہ اعتراف کرنا پڑےگا کہ اگر کسی عوامی مقام پر کھڑے ہوکر میں یہ کہہ دوں کے مجھے وزیراعظم کا چہرہ اچھا نہیں لگتا تو کوئی نہ کوئی مجھ پر حملہ کردےگا،  یا پھر مجھے گرفتار کرکے کوئی وجہ بتائے بغیر جیل میں  ڈال دیا جائےگا۔‘‘ جسٹس سری کرشنا نے یہ باتیں  ’دی ہندو ‘  اخبارکو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہی  ہیں۔  کرن رجیجو نے اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کے ایک سابق جج  نے یہ بات کہی ہے۔ ان کے مطابق’’میں نہیں  جانتا کہ  واقعی سپریم کورٹ کے سابق جج نے اس طرح کی باتیں کی ہیں۔اگر یہ سچ ہے تو یہ اس ادارہ کیلئے بدنامی کا باعث ہے جس میں وہ کام کرچکے ہیں۔‘‘ اس سلسلے میں انڈین ایکسپریس نے جب جسٹس سری کرشنا سے رابطہ کیاتو ان کا جواب تھا کہ’’ میں  نوکر شاہوں  کے آزادی ٔ اظہار رائے کے حق کے استعمال کے تعلق سے گفتگو کررہاتھا۔ ‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر نوکر شاہ   تہذیب کے دائرہ میں رہتے ہوئے حکومت پر تنقید کرتا ہے تو اس کا اثر اس کی سروس پر نہیں پڑنا چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK