الیکشن کمیشن کے ناقص انتظامات کے باعث صبح سے شروع کاؤنٹنگ کے باوجود تمام ۳۱ ؍پینل کے نتائج رات ۳۰:۸؍ بجے کے بعد سامنے آسکے۔
ثمینہ شیخ،کانگریس اور رمیز منیار(این سی پی شرد)۔ تصویر: آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے انتخابات میں مہایوتی نے ایک بار پھر واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے کارپوریشن پر اپنا اقتدار برقرار رکھا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق شیوسینا (شندے) نے۵۲ ، بی جے پی نے ۵۱ شیوسینا (ادھو) نے۱۱، مہاراشٹر نونرمان سینا نے ۵، کانگریس نے۲ جبکہ این سی پی (شرد پوار) نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔
میئر کے عہدہ کیلئے رسہ کشی کی قیاس آرائیاں
تاہم میئر کے عہدے کو لے کر بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کے درمیان رسہ کشی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ انتخابات سے قبل ہی بی جے پی کے ۱۴ اور شندے گروپ کی شیوسینا کے ۶ امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکے تھے۔جس سے مہایوتی کی مضبوط پوزیشن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ادھر الیکشن کمیشن کے ناقص انتظامات کے باعث تمام ۳۱ پینلوں کے نتائج رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد سامنے آ سکے۔ ووٹوں کی گنتی کا آغاز جمعہ کی صبح شہر کے ۸؍ مراکز پر ہوا تھا جہاں ابتدائی مرحلے سے ہی بی جے پی اور شیوسینا نے واضح سبقت برقرار رکھی جو آخرکار ان کی مجموعی کامیابی پر منتج ہوئی۔
محض ۲ ؍مسلم امیدواروں نے جیت حاصل کی
مسلم اکثریتی پینل نمبر ۸ کے انتخابی نتائج نے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی سیاسی نااتفاقی کو پوری شدت کے ساتھ بے نقاب کر دیا ہے جہاں ووٹوں کی تقسیم کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو پہنچا۔پینل نمبر ۸؍ کے ڈی وارڈ میں سب سے زیادہ امیدوار میدان میں تھے۔ یہاں بی جے پی کے امیت دھاکرس کو ۶۵۳۲ ؍ووٹ ملے جبکہ کانگریس کے افتخار خان کو ۵۰۸۶؍ اور آزاد امیدوار کاشف تانکی کو ۴۶۶۴ ؍ووٹ حاصل ہوئے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ دونوں مسلم امیدواروں کے مجموعی ووٹوں کی تعداد ۹۷۵۰ ؍بنتی ہے جو اگر متحد رہتی تو نتیجہ یکسر مختلف ہو سکتا تھا۔دوسری جانب اسی وارڈ میں کانگریس کی غیر مسلم امیدوار کانچن کلکرنی کو سب سے زیادہ ۱۱۲۲۷ ؍ووٹ حاصل ہوئے جبکہ شیوسینا کی امیدوار وندنا گید کو ۸۱۴۸ ؍ووٹ ملے۔ پینل نمبر ۸؍بی میں کانگریس کی دوسری امیدوار ثمینہ شیخ کو ۴۶۶۵؍ووٹ حاصل ہوئے جبکہ آزاد امیدوار علیزا کھوت محض ۳۸ ؍ووٹوں کے انتہائی معمولی فرق سے شکست سے دوچار ہوئیں جنہیں ۴۶۲۷؍ ووٹ ملے۔
اسی طرح او بی سی ’اے‘ وارڈ میں این سی پی (شرد پوار گروپ) کے امیدوار رمیز منیار نے ۹۷۱۶ ؍ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی کے امیدوار پراگ تیلی کو ۸۵۷۸ ؍ووٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس وارڈ میں پراگ تیلی کی شکست نے واضح کر دیا کہ منظم اور متحد ووٹنگ کس طرح فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
اگر یہاں بھی مسلم ووٹ تقسیم کا شکار ہوتے تو فرقہ پرست جماعت کو باآسانی فائدہ پہنچ سکتا تھا۔قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ اوپن کیٹیگری میں زیادہ مسلم امیدواروں کی موجودگی کے باعث ووٹوں کی شدید تقسیم ہوئی جس کاسیدھا فائدہ بی جے پی امیدوار کو ملا اور وہ آسانی سے کامیاب ہو گیا۔ مجموعی طور پر یہ نتائج اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاسی شعور اور باہمی اتحاد کے بغیر مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی انتخابی کامیابی ممکن نہیں اور ووٹوں کی معمولی سی تقسیم بھی نتائج کا رخ بدلنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔