Inquilab Logo Happiest Places to Work

ثبوتوں کےفقدان نے مولانا کلیم صدیقی کی ضمانت کی راہ ہموار کردی

Updated: April 06, 2023, 1:56 PM IST | Jilani Ali Khan | Lucknow

تقریباً ۱۸؍مہینے سے جیل کی صعوبتیں برداشت کررہے معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو بدھ کو ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے۔

Maulana Kaleem Siddiqui
مولانا کلیم صدیقی

تقریباً ۱۸؍مہینے سے جیل کی صعوبتیں برداشت کررہے معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو بدھ کو ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے۔جسٹس عطاء الرحمان مسعودی اور جسٹس سروج یادو پر مشتمل بنچ نے انہیںضمانت دی ہے جس سے ان کی رہائی کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔حالانکہ جبراً تبدیلیٔ مذہب، غیر ملکوں سے غیر قانونی فنڈ حاصل کرنے سمیت متعدد سنگین دفعات میں ان کے علاوہ تقریباًڈیڑھ درجن افراد بشمول کئی معروف مسلم اسکالرس کو ابھی بھی ضمانت نہیں مل سکی ہے۔اس ڈیولپمنٹ پر ملی حلقوں میں خوشی کی لہر ہے اور مذہبی رہنما اسے عدلیہ اور انصاف کی جیت بتارہے ہیں۔گلوبل پیس سینٹراور جامعہ امام ولی اللہ ٹرسٹ کے سربراہ مولانا کلیم صدیقی کی ضمانت بدھ کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے منظور کی۔ جسٹس عطاءالرحمان اور جسٹس سروج یادو پر مشتمل بنچ نے یہ ضمانت دی ہے، جس کے لئے مولانا کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ آئی بی سنگھ اور ان کی ٹیم نے زوردار پیروی کیحسب توقع حکومت کی طرف سےضمانت کی سخت مخالفت کی گئی مگر ثبوتوں کے فقدان نے ضمانت کی راہ ہموار کردی۔اس کے بعد اب مولانا کلیم کی جیل سے باہر آنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ان کی پیر وی کررہی لیگل ٹیم کے مطابق، اب رہائی میں کوئی رخنہ نہیں ہے اور امید ہے کہ آئندہ ہفتہ وہ جیل سے باہر آجائیں گے۔امام عیدگاہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بطورخاص اس کیلئےمولانا کلیم کی لیگل ٹیم کو مبارکباد پیش کی  اور اظہار تشکر کیا ہے۔ یاد رہے کہ مولانا کلیم صدیقی کو ستمبر ۲۰۲۱ءمیں میرٹھ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ان سے قبل یوپی اے ٹی ایس نے خصوصی مہم کے تحت اسلامی اسکالر مولانا عمر گوتم اورمولانا مفتی قاضی جہانگیرکو نئی دہلی سےگرفتار کیاتھا۔چند ہی دنوں میں دیگر کئی اور لوگوں کوبشمول کچھ غیر مسلم نوجوان ملک کے دوسرے حصوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یوپی اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تمام لوگ اس ریکیٹ کا حصہ ہیں جو تبدیلی مذہب کےلئے چلایاجارہا ہے۔ہندو مذہب کو ترک کرکے مشرف بہ ا سلام ہوچکے عمر گوتم، قاضی جہانگیر اور مولانا کلیم کو یو پی اے ٹی ا یس نے بطور خاص اس ریکیٹ کا اہم لیڈر بتایا تھا۔مولانا کلیم صدیقی ۱۸ ؍مہینے سے لکھنؤ جیل میں قید تھے ۔
 مولاناکلیم صدیقی کی درخواست ضمانت کئی تاریخوں سے ملتوی ہورہی تھی۔بدھ کو سینئر ایڈوکیٹ آئی بی سنگھ ، ایڈوکیٹ ضیاءالقیوم جیلانی  مولانا کیلئے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ایڈوکیٹ ضیاءالقیوم جیلانی نے ’انقلاب‘ کو بتایا کہ ہماری دلیل تھی کہ مولانا کے خلاف دو ایف آئی آر ان کی گرفتاری کے بعد درج کرائی گئی ہیں۔  پہلے سے جبراًتبدیلی  ٔمذہب کا کوئی مقدمہ نہیں تھا۔ غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ بھی صاف ستھرا ہے۔ ٹیکس ریکارڈ عدالت کے سامنے ہے۔حکومتی اداروں نے ہر سرٹیفکیٹ دے رکھے ہیں، جن کی بنیاد پر ہی بیرون ممالک سے پیسے آتے ہیں ۔ ای ڈی کا کوئی کیس ان کی تنظیم اور ٹرسٹ کے خلاف نہیں ہے۔ایسے میں ان پر الزامات بے بنیاد ہیں۔ 
  مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ یہ ضمانت یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ تمام اکابرین جو کہتے تھے کہ ملی رہنما ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوسکتے جو غیر قانونی ہوں۔ساتھ ہی، ہمیں عدلیہ پر اعتماد رکھتے ہوئے باقی جو جیلوں میں بند ہیں انکی رہائی کےلئے بھی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK