• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جیلر۲‘‘ کے خلاف مبینہ بدنیتی پرمبنی آن لائن جائزوں پر قانونی کارروائی کی تیاری

Updated: October 16, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

جنوبی ہندوستانی سنیما کے سپر اسٹار رجنی کانت کی فلم ’’جیلر ۲‘‘ (Jailer 2) کے بنانے والوں نے فلم کے خلاف مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی آن لائن جائزوں اور منفی تشہیر کے معاملے میں قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

Jailer2.Photo:INN
جیلر۲۔ تصویر:آئی این این

 جنوبی ہندوستانی سنیما کے سپر اسٹار رجنی کانت کی فلم ’’جیلر ۲‘‘ (Jailer 2) کے بنانے والوں نے فلم کے خلاف مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی آن لائن جائزوں اور منفی تشہیر کے معاملے میں قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، فلم کے پروڈیوسر ادارے سن پکچرز (Sun Pictures) کو خدشہ ہے کہ منظم انداز میں دیے جانے والے منفی تبصرے اور آن لائن درجہ بندی فلم کی ساکھ اور کاروبار کو متاثر کرسکتے ہیں۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلم کی ریلیز کے بعد ناظرین کے ردعمل، سوشل میڈیا پر تبصروں اور آن لائن جائزوں پر بحث جاری ہے۔ تاہم، پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے قانونی کارروائی سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق اور کسی باضابطہ عدالتی حکم کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔ 
رپورٹس کے مطابق، فلم کی ریٹنگ میں مبینہ طور پر منظم مداخلت کے خدشات کے پیش نظر سن پکچرز نے بک مائی شو (BookMyShow) پر ’’جیلر ۲‘‘ کے جائزے اور درجہ بندی دینے کا اختیار بند کردیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد فلم کے خلاف ممکنہ طور پر مربوط منفی مہم کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ ریٹنگ کا اختیار بند کرنے کا فیصلہ پروڈکشن ہاؤس نے خود کیا یا اس میں پلیٹ فارم کا بھی کوئی کردار تھا۔ اسی طرح، فلم کے خلاف منفی جائزوں کو کسی منظم مہم کا حصہ قرار دینے کے دعوؤں کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:عمران خان ہی نہیں، بالی ووڈ کے کئی مشہور ستاروں کے پاس بھی ہندوستانی شہریت نہیں

’’جیلر۲‘‘ سے متعلق یہ معاملہ یش کی فلم ’’ٹاکسک: اے فیری ٹیل فار گروون اپس‘‘ اور نانی کی فلم ’’دی پیراڈائز‘‘ کے حوالے سے سامنے آنے والے قانونی تنازعات کے بعد زیر بحث آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ’’ٹاکسک‘‘ کے بنانے والوں نے مبینہ طور پر جھوٹے، بدنیتی پر مبنی یا ہتک آمیز مواد کی اشاعت کے خلاف عدالت سے عبوری راحت حاصل کی تھی۔ اسی طرح ’’دی پیراڈائز‘‘ کے پروڈیوسرس نے بھی مخصوص آن لائن پوسٹس اور روابط کے خلاف عدالتی تحفظ حاصل کیا تھا۔ ان معاملات نے فلمی صنعت میں آن لائن جائزوں، سوشل میڈیا پر منفی مہمات اور فلموں کی ساکھ کے تحفظ سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کیا ہے۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی فلم کو پسند نہ کرنا یا اس پر تنقیدی رائے دینا بذاتِ خود بدنیتی پر مبنی مہم کا ثبوت نہیں ہے۔ قانونی کارروائی کا تعلق مبینہ جھوٹے یا ہتک آمیز مواد اور مخصوص غیر قانونی سرگرمیوں سے ہوسکتا ہے، نہ کہ ہر منفی جائزے پر عمومی پابندی سے۔
 ’’جیلر ۲‘‘ کی ہدایت کاری نیلسن دلیپ کمار نے کی ہے اور اسے سن پکچرز نے پروڈیوس کیا ہے۔ فلم میں رجنی کانت کے ساتھ رمیا کرشنن، ایس جے سوریہ، ودیا بالن، موہن لال، شیوا راج کمار، متھن چکرورتی اور یوگی بابو سمیت متعدد معروف اداکار شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:منوج باجپائی کی فلم’ ’گھوس خور پنڈت‘‘ کا نام تبدیل،’’غجب رات‘‘رکھا گیا

یہ فلم ۱۵؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی۔ فلم کی ریلیز سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے اس کی غیر مجاز آن لائن نمائش اور نقل کی تقسیم روکنے کے لیے بھی عبوری تحفظ فراہم کیا تھا۔ تاہم، یہ عدالتی کارروائی کاپی رائٹ اور فلم کی غیر قانونی تقسیم سے متعلق تھی، جسے آن لائن جائزوں کے تنازعے سے الگ سمجھنا چاہیے۔  موجودہ دور میں فلموں کی کامیابی کا اندازہ صرف ٹکٹوں کی فروخت سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ سوشل میڈیا پر ردعمل، آن لائن ریٹنگ، فلمی ناقدین کے جائزوں اور ناظرین کی زبانی تشہیر کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ ریلیز کے ابتدائی دنوں میں سامنے آنے والی آرا دوسرے ناظرین کے فلم دیکھنے کے فیصلے پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ اسی وجہ سے فلم سازوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ حقیقی ناظرین کی تنقید اور ممکنہ طور پر جعلی یا منظم منفی مہم کے درمیان فرق واضح کریں۔ دوسری طرف، ناظرین اور ناقدین کی آزادانہ رائے کا تحفظ بھی اہم ہے۔
مجموعی طور پر، رجنی کانت کی’ ’جیلر ۲‘‘ کے حوالے سے مبینہ قانونی کارروائی کی خبریں فلمی صنعت میں آن لائن جائزوں اور ڈجیٹل ساکھ کے تحفظ پر جاری بحث کو نمایاں کرتی ہیں۔ فی الحال قانونی کارروائی سے متعلق بعض تفصیلات کی آزادانہ تصدیق باقی ہے، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ فلم کے خلاف منفی جائزوں کے پیچھے کوئی منظم سازش ثابت ہوچکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK