• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ میں والمارٹ اِفیکٹ: صارفین کا بدلتا رویہ، کساد بازاری کا خدشہ!

Updated: October 17, 2026, 10:02 PM IST | New York

ماہرِ معاشیات جم پالسن کے مطابق، والمارٹ کے حصص کی لگژری کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی امریکی معیشت میں ممکنہ سست روی اور صارفین کے بجٹ پر بڑھتے دباؤ کا اشارہ ہوسکتی ہے۔ ان کا تیار کردہ ’’والمارٹ ریسشن سگنل‘‘ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ معاشی غیر یقینی بڑھنے پر صارفین مہنگی مصنوعات کے بجائے کم قیمت اشیا فروخت کرنے والے خوردہ فروشوں کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ تاہم، یہ کساد بازاری کی یقینی پیش گوئی نہیں، بلکہ متعدد معاشی اشاریوں میں سے ایک ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکی معیشت میں صارفین کی قوتِ خرید اور اخراجات کے بدلتے رجحانات کو سمجھنے کے لیے اب ایک غیر معمولی اشاریے پر توجہ دی جا رہی ہے، جسے ’’والمارٹ ریسشن سگنل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اگر والمارٹ کے حصص لگژری مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھنے لگیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ صارفین اپنے اخراجات میں احتیاط برت رہے ہیں اور کم قیمت اشیا کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ ماہرِ معاشیات جم پالسن نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ اس اشاریے کی حالیہ حرکت امریکی معیشت میں ممکنہ کمزوری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پالسن کے مطابق، والمارٹ کے حصص کی کارکردگی کا موازنہ ایس اینڈ پی گلوبل لگژری انڈیکس سے کیا جاتا ہے، جس میں لگژری مصنوعات سے وابستہ کمپنیوں کی کارکردگی شامل ہوتی ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق، اگست ۲۰۲۶ء کے بعد والمارٹ کے حصص نے اس انڈیکس کے مقابلے میں تقریباً ۲۱؍ فیصد بہتر کارکردگی دکھائی۔ ان کے نزدیک یہ تبدیلی اس بات کا ممکنہ اشارہ ہے کہ صارفین کی ترجیحات دوبارہ کم قیمت مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ تاہم، حصص کی قیمتوں میں فرق بذاتِ خود صارفین کے اخراجات یا معیشت کی مجموعی حالت کا مکمل پیمانہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کے احتجاج میں شدت، ایک ہزار ۲۶۰؍ افراد گرفتار، ۸۶؍ فیصد نابالغ

اس نظریے کی بنیاد یہ ہے کہ معاشی دباؤ بڑھنے پر گھرانے سب سے پہلے غیر ضروری خریداری میں کمی کرتے ہیں۔ مہنگی تعطیلات، لگژری ملبوسات، قیمتی گھریلو سامان اور دیگر اختیاری اخراجات مؤخر کیے جا سکتے ہیں، جب کہ خوراک، صفائی کی مصنوعات اور روزمرہ ضروریات کی خریداری جاری رہتی ہے۔ ایسے حالات میں کم قیمت اشیا فروخت کرنے والے خوردہ فروشوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، کیونکہ صارفین ایک ہی بجٹ میں زیادہ سامان خریدنے یا کم قیمت متبادل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پالسن کا کہنا ہے کہ والمارٹ ریسشن سگنل ماضی میں بھی معاشی سست روی سے پہلے نمایاں ہوا تھا۔ ان کے تجزیے کے مطابق، یہ اشاریہ گزشتہ ۴؍ کساد بازاری کے ادوار سے پہلے اوپر گیا تھا اور ۱۹۹۰ء کے بعد فیڈرل ریزرو کے ہر بڑے شرحِ سود میں کمی کے دور سے پہلے بھی اس میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں بھی یہ اشاریہ ممکنہ معاشی کمزوری اور مستقبل میں شرحِ سود میں کمی کے امکان کی طرف اشارہ کرسکتا ہے۔ تاہم، یہ تاریخی تعلق اس بات کی ضمانت نہیں کہ موجودہ صورتِ حال بھی اسی نتیجے پر پہنچے گی۔
امریکی صارفین کے اخراجات سے متعلق دیگر اطلاعات بھی مختلف آمدنی والے گھرانوں کے درمیان بڑھتے فرق کی نشاندہی کرتی ہیں۔ رائٹرز نے اگست ۲۰۲۶ء میں رپورٹ کیا تھا کہ کم اور متوسط آمدنی والے صارفین ضروری اشیا پر توجہ دے رہے ہیں اور بڑی خریداری مؤخر کر رہے ہیں، جب کہ زیادہ آمدنی والے گھرانے لگژری مصنوعات اور مہنگی خدمات پر اخراجات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ والمارٹ اور ٹارگٹ جیسے خوردہ فروشوں میں صارفین کی آمدورفت برقرار رہنے کے باوجود فی خریداری اوسط خرچ میں احتیاط کے آثار نظر آئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دکانوں میں خریداروں کی موجودگی اور ان کی حقیقی قوتِ خرید دو الگ چیزیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نوجوانوں کیلئے ملازمت کا حصول مشکل، کالج ڈگری بھی روزگار کی ضامن نہیں

مہنگائی بھی اس صورتِ حال میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اسوسی ایٹڈ پریس کی ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر میں امریکی صارفین کی قیمتوں میں سالانہ اضافہ ۷ء۳؍ فیصد تک پہنچ گیا، جب کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے گھرانوں اور کاروباروں کے اخراجات پر مزید دباؤ ڈالا۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر میں خوردہ فروخت میں ماہانہ اضافہ ۸ء۰؍ فیصد تھا، لیکن پیٹرول کو نکالنے کے بعد یہ اضافہ صرف ۲ء۰؍ فیصد رہ گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فروخت میں اضافہ ہمیشہ صارفین کی حقیقی قوتِ خرید بہتر ہونے کی علامت نہیں ہوتا؛ بعض اوقات قیمتیں بڑھنے سے بھی مجموعی فروخت کی مالیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے باوجود، والمارٹ ریسشن سگنل کو امریکی معیشت کے مستقبل کا حتمی فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ خود پالسن نے تسلیم کیا ہے کہ یہ کئی اشاریوں میں سے صرف ایک ہے۔ فیڈرل ریزرو کی پالیسی، روزگار کی صورتِ حال، اجرتوں میں اضافہ، قرضوں کی لاگت اور صارفین کے حقیقی اخراجات بھی معاشی سمت متعین کرنے میں اہم ہیں۔ یونیورسٹی آف مشی گن کے اکتوبر ۲۰۲۶ء کے ابتدائی سروے میں صارفین کے اعتماد کا اشاریہ ستمبر کے ۱ء۴۸؍ فیصد سے کم ہوکر ۳ء۴۶؍ رہ گیا، جو صارفین کے معاشی احساسات میں کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، صارفین کا اعتماد اور حقیقی اخراجات ہمیشہ ایک ہی رفتار سے تبدیل نہیں ہوتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK