Updated: October 27, 2026, 4:04 PM IST
| Dublin
امریکی ریپر میکلمور نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کے لیے انسانی امداد جمع کرنے کی غرض سے یورپ میں اپنے خصوصی کنسرٹ سلسلے ’’فری فلسطین‘‘ کا آغاز آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن سے کیا۔ ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ڈبلن کے تھری ایرینا میں منعقد ہونے والے اس کنسرٹ میں ہزاروں شائقین نے شرکت کی۔
امریکی ریپر میکلمور (Macklemore) نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کے لیے انسانی امداد جمع کرنے کی غرض سے یورپ میں اپنے خصوصی کنسرٹ سلسلے ’’فری فلسطین‘‘ کا آغاز آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن سے کیا۔ ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ڈبلن کے تھری ایرینا میں منعقد ہونے والے اس کنسرٹ میں ہزاروں شائقین نے شرکت کی، جبکہ ہالی ووڈ اداکار مارک رفالو، سنتھیا نکسن، ایلانا گلیزر اور نتاشا روتھ ویل سمیت متعدد معروف شخصیات نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے فلسطینی عوام کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس پروگرام میں آئرش اداکار لیام کننگھم نے ذاتی طور پر شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔ منتظمین کے مطابق اس سلسلے کے تمام کنسرٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی فلسطینی عوام کی انسانی امداد، طبی سہولتوں، تعلیم اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو دی جائے گی۔
ڈبلن کے کنسرٹ میں میکلمور کے ساتھ معروف آئرش گلوکار ہوزیئر، آئرش ہپ ہاپ گروپ کنی کیپ (Kneecap)، آئرش لوک موسیقی کا گروپ بیوگا (Beoga)، فلسطینی گلوکارہ لینا مخول، امریکی ہپ ہاپ گروپ ڈیڈ پریز کے رکن ایم ون اور فلسطینی نژاد امریکی ڈی جے حبی بیٹس نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ پروگرام میں موسیقی کے ساتھ فلسطینی عوام کی مشکلات، انسانی حقوق اور غزہ کی صورت حال پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
کنسرٹ کے لیے دستیاب تمام ۱۳؍ ہزار ٹکٹ فروخت ہوگئے تھے۔ شرکاء فلسطینی پرچم لہراتے اور فلسطینی ثقافت کی علامت کفیہ پہنے نظر آئے۔ پروگرام کے دوران غزہ کے بچوں کے ایک گلوکار گروپ کی ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس نے تقریب کو محض موسیقی کے پروگرام کے بجائے انسانی ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کا ذریعہ بنا دیا۔ ہالی ووڈ اداکار مارک رفالو اور سنتھیا نکسن سمیت کئی معروف شخصیات نے کنسرٹ میں براہ راست شرکت کرنے کے بجائے ویڈیو پیغامات بھیجے۔ ان پیغامات کے ذریعے فلسطینی عوام کی حمایت اور غزہ میں جاری انسانی بحران کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی۔ اداکار جولین کاسابلانکاس، ایلانا گلیزر اور نتاشا روتھ ویل بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اس پروگرام کے لیے اپنے پیغامات ریکارڈ کروائے۔
یہ بھی پڑھئے:جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی پر تعطل برقرار
اداکار لیام کننگھم، جو مشہور ٹیلی ویژن سیریز گیم آف تھرونز میں اپنے کردار کے لیے جانے جاتے ہیں، نے تقریب میں ذاتی طور پر شرکت کی اور خطاب کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مشکلات اور ان کے دکھ کو فراموش کیے بغیر بھی انسانی زندگی، امید اور فلسطینی عوام کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ کنسرٹ کے دوران آئرش گلوکار ہوزیئر نے موسیقی پیش کرنے کے ساتھ آئرلینڈ کی حکومت سے اپیل کی کہ غزہ کے ان ۵۵؍ طلبہ کے ویزوں کی منظوری کا معاملہ حل کیا جائے جنہیں آئرش جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف مل چکے ہیں۔ ہوزیئر کے مطابق، یہ طلبہ وظائف حاصل کرنے کے باوجود اپنے تعلیمی سفر کے آغاز کے منتظر ہیں۔ انہوں نے سامعین کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کرائی اور لوگوں کو اس سلسلے میں جاری درخواست پر دستخط کرنے کی ترغیب دی۔ ان کی اس اپیل نے کنسرٹ میں تعلیم، انسانی حقوق اور جنگ سے متاثرہ نوجوانوں کے مستقبل کے موضوعات کو بھی نمایاں کیا۔
میکلمور کے اس خصوصی کنسرٹ سلسلے کی اہمیت اس پس منظر میں بھی بڑھ گئی ہے کہ انہیں امریکی گلوکار ایڈ شیرن کے امریکی دورۂ موسیقی سے الگ کر دیا گیا تھا۔ ستمبر ۲۰۲۶ء میں نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں پرفارم کرتے ہوئے میکلمور نے فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھائی اور ’’فری فلسطین‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ اس کے بعد ان کے دورے میں مزید شرکت کے حوالے سے تنازع پیدا ہوا۔دورے کے منتظمین نے بتایا تھا کہ آئندہ پروگراموں کے لیے بعض مقامات کی جانب سے میکلمور کی شرکت پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔ ایڈ شیرن نے بھی وضاحت کی تھی کہ میکلمور کو دورے سے الگ کرنے کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ منتظمین کا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:پردیپ کمار نےبادشاہ اور نواب بن کر بالی ووڈ پر راج کیا
اس تنازع کے بعد میکلمور نے فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والے فنکاروں کو ایک ساتھ لانے کا فیصلہ کیا اور ’’فری فلسطین‘‘ کنسرٹ سلسلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایڈ شیرن کے دورے سے حاصل ہونے والی اپنی خالص آمدنی میں سے ۱۰؍ لاکھ امریکی ڈالر فلسطینی امدادی تنظیموں کو عطیہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ منتظمین کے مطابق، اس کنسرٹ سلسلے سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی فلسطینی عوام کی مدد کرنے والی مختلف تنظیموں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ ان تنظیموں میں انیرا (Anera)، غزہ سوپ کچن، میڈیکل ایڈ فار فلسطینیئنز، فلسطین چلڈرنز ریلیف فنڈ، ہیو فلسطین، طعون، جیوش وائس فار پیس اور یو این آر ڈبلیو اے یو ایس اے سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔یہ تنظیمیں فلسطینی خاندانوں کو انسانی امداد، طبی سہولتیں، بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے کے لیے کام کرتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد موسیقی کے ذریعے لوگوں کو متحرک کرنا اور فلسطینی عوام کے لیے امدادی سرگرمیوں کو تقویت دینا ہے۔ ڈبلن میں کامیاب آغاز کے بعد میکلمور کے ’’فری فلسطین‘‘ کنسرٹ سلسلے کے اگلے پروگرام پیرس اور لندن میں منعقد ہوں گے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق،۲۹؍ اکتوبر کو پیرس کے ایکور ایرینا اور ۳۰؍ اکتوبر کو لندن کے او وی او ایرینا ویمبلی میں کنسرٹ ہوگا۔ ان پروگراموں کے ٹکٹ بھی فروخت ہو چکے ہیں۔میکلمور، جو اپنے مشہور گانوں Thrift Shop اور Can`t Hold Us کے لیے جانے جاتے ہیں، نے اس سلسلے کے ذریعے موسیقی اور سماجی سرگرمیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈبلن میں ان کے کنسرٹ نے ایک بار پھر یہ بحث نمایاں کر دی ہے کہ فنکار اپنے پلیٹ فارم کو انسانی حقوق، جنگ سے متاثرہ عوام اور عالمی مسائل کے بارے میں آواز اٹھانے کے لیے کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔