Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش: کاغذ پر فعال اندور کا ایک اسپتال جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں

Updated: July 05, 2026, 5:12 PM IST | Indore

مدھیہ پردیش کے اندور میں کاغذ پر موجود ایک فعال اسپتال جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں، محکمہ صحت کو حیرت میں ڈال دیا، بنا ایک اینٹ لگے یہ اسپتال ۱۰۰؍کمروں پر مشتمل ہے، گزشتہ چھ سالوں سے کاغذ پر مکمل طور پر فعال ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایک عجیب انتظامی بے ضابطگی جس نے مقامی محکمۂ صحت کو حیرت میں ڈال دیا ہے، اندور کے علاقے کھجرانہ میں مجوزہ۱۰۰؍ بستروں کے سول اسپتال کی تعمیر میں ایک اینٹ بھی نہیں لگی، نہ ہی زمین کا کوئی ٹکڑا طے پایا، مگر یہ اسپتال گزشتہ چھ سالوں سے ’’کاغذوں پر‘‘مکمل  فعال ہے۔چھ سال قبل ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت نے کھجرانہ میں ایک جدید سول اسپتال کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ مناسب جگہ کی تلاش جاری رہی، مگر بیوروکریسی چلتی رہی۔ محکمے نے اس غیر موجود اسپتال کے لیے خاص طور پر ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل عملے کی۸۷؍ اسامیوں کی منظوری دے دی۔گزشتہ برسوں کے دوران ان عہدوں کو بھرنے کے لیے معمول کے مطابق تبادلے اور تقرریاں جاری رہیں۔ اس وقت تقریباً ۸۰؍ ملازمین متبادل جگہوں پر تعینات ہیں، جن میں پی سی سیٹھی اسپتال، حکم چند اسپتال اور شہر بھر کی مختلف مقامی سنجیونی کلینک شامل ہیں۔اس غیر معمولی صورتحال پر وضاحت دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ راجیندر شکلا نے اس منصوبے کی تاریخ واضح کی، انہوں نے کہا ،’’ابتدائی طور پر یہاں ایک شہری پی ایچ سی (بنیادی صحت مرکز) چل رہا تھا، جسے۵۰؍ بستروں کے سول اسپتال میں ترقی دی گئی اور بعد میں۱۰۰؍ بستروں کی سہولت کے طور پر منصوبہ بنایا گیا۔ تاہم مناسب سرکاری زمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعمیر شروع نہیں ہو سکی۔ جب تک عمارت تعمیر نہیں ہو جاتی، منظور شدہ عملہ کو دوسرے سرکاری طبی اداروں میں تعینات کر دیا گیا ہے، اور زمین کی تلاش جاری ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ریاست کے مختلف اضلاع میں زور دار بارش، ۶؍ جولائی تک الرٹ

بعد ازاں اپوزیشن نے سخت حملہ کیا اور حکومت پر شدید غفلت کا الزام لگایا۔ سابق وزیر سجن سنگھ ورما نے سوال کیا کہ ایسی عمارت کے لیے جو موجود نہیں، برسوں تقرریاں اور تبادلے کیسے جاری رہ سکتے ہیں؟ورما نے کہا،’’ ہم اس معاملے کو آنے والے اسمبلی اجلاس میں نمایاں طور پر اٹھائیں گے اور جوابات کا مطالبہ کریں گے،‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا، چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر مدھو ہسانی نے لاجسٹک رکاوٹوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ، ’’شہر کی حدود میں سرکاری زمین کا بڑا ٹکڑا تلاش کرنا آسان نہیں، جس سے تعمیر میں تاخیر ہوئی۔ ہم نے نرسنگ اور پیرامیڈیکل عملے کو سنجیونی کلینکس اور دوسرےاسپتالوں سے منسلک کر دیا تاکہ ان کی مہارتیں بروئے کار آ سکیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK