چین میں ایرانی سفیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کی فیس لی جائے گی، تاہم اتحادی ممالک کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیا جائے گا، حالانکہ امریکہ ایران کے ہرمز پر دعویٰ کو مسترد کرچکا ہے۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 6:05 PM IST | Beijing
چین میں ایرانی سفیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کی فیس لی جائے گی، تاہم اتحادی ممالک کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیا جائے گا، حالانکہ امریکہ ایران کے ہرمز پر دعویٰ کو مسترد کرچکا ہے۔
چین میں ایرانی سفیر نے ہرمز پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے پر فیس لے گا۔ تاہم اتحادی ممالک کے ساتھ خصوصی نوعیت کا برتاؤ ہوگا۔ چین میں ایرانی سفیر نے اس امر کا اظہار سنیچر کو اس وقت کیا ہے جب اس سے پہلے واشنگٹن ایران کے اس دعوے کو مسترد کر چکا ہے۔اس سلسلے میں امریکہ و ایران کے درمیان ابتدائی معاہدہ مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی صورت میں ۱۸؍ جون کو ہوا تھا۔ جس میں طے کیا گیا ہے کہ۶۰؍ دنوں کے اندر معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ایرانی سفیر عبد الرضا رحمانی فاضلی نے ورلڈ پیس فورم سے بیجنگ میں خطاب کے دوران کہا ان کا ملک عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے سلسلے میں تعاون اور اشتراک کیلئے کوشاں ہے۔ تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ کیلئے نیا انتظامی طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا آبنائے ہرمز ایرانیبحری حدود کا حصہ ہے۔ اس لئے یہ یقینی بات ہے کہ ہم اس کے واجبات وصول کریں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے برطانیہ اور فرانس کے ہرمز میں فوجی موجودگی کے بیان کو رد کردیا
مزید برآں فاضلی نے کہا کہ یہ واجبات ٹول، کی شکل میں نہیں ہوں گے۔ جبکہ نئے انتظامات کے تحت گزرنے والوں کو سلامتی کی ضمانت دی جائے گی اور یہاں سے گزرنے کے دوران جہازوں کی نگرانی کی جائے گی۔ نیز آبنائے ہرمز کے ماحولیاتی ماحول کابھی اس نئے انتظامات کے تحت خیال رکھا جائے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں گزرنے والے جہازوں کے ماحولیاتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید واضح کیا ہم اپنے اتحادی ملکوں کے ساتھ خصوصی برتاؤ کریں گے۔ خاص طور پر ان دوست ملکوں کے ساتھ جو اس مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: مرحوم خامنہ ای کے جنازے میں ۱۴؍ ماہ کی پوتی کا تابوت مرکز توجہ، سوشل میڈیا غمگین
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے عالمی منڈیوں کیلئےجانے والے تیل اور توانائی کے دیگر وسائل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ کے لئے تیل کی برآمد کا اہم ترین راستہ ہے۔ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ایران نے اسے بند کردیا تھا۔ اور اب اس آبنائے کو قومی ملکیت قرار دیا ہے۔