Updated: October 14, 2026, 7:59 PM IST
| Madurai
اپنے ایک حالیہ ویڈیو میں ویرامنی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایڈریس شیئر کرنے کے بعد ٹی وی، فریج اور واشنگ مشین جیسی مصنوعات کے ساتھ بڑی تعداد میں ڈیلیوری بوائز ان کے گھر پہنچنا شروع ہوگئے جنہیں انہوں نے کبھی آرڈر ہی نہیں دیا تھا۔ ٹیلی ویژن میں سے ایک کی قیمت ۶۹ء۱ لاکھ روپے تھی۔ چونکہ آرڈرز کیش آن ڈیلیوری کی بنیاد پر دیئے گئے تھے، اس لئے ان پر سامان کی رقم ادا کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان مہنگی اشیاء کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔
مدورائی سے تعلق رکھنے والے انفلوئنسر ویرامنی کے سوشل میڈیا پر اپنا فون نمبر اور گھر کا پتہ شیئر کرنے کے بعد انہیں بڑی تعداد میں ٹی وی، فریج اور واشنگ مشین کے کیش آن ڈیلیوری (COD) آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔ کچھ دنوں قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی تفصیلات اس امید کے ساتھ شیئر کی تھی کہ ان کے فالوورز انہیں دیوالی کی مٹھائیاں بھیجیں گے۔ لیکن اب جعلی آرڈرز کے بعد انہیں مدد کی اپیل کرنی پڑی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے اپنا گھر بھی تبدیل کرلیا ہے۔
اپنے ایک حالیہ ویڈیو میں ویرامنی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایڈریس شیئر کرنے کے بعد ڈیلیوری بوائز بڑی تعداد میں ٹی وی، فریج اور واشنگ مشین جیسی مصنوعات کے ساتھ ان کے گھر پہنچنا شروع ہوگئے جنہیں انہوں نے کبھی آرڈر ہی نہیں دیا تھا۔ ٹیلی ویژن میں سے ایک کی قیمت ۶۹ء۱ لاکھ روپے تھی۔ چونکہ آرڈرز کیش آن ڈیلیوری کی بنیاد پر دیئے گئے تھے، اس لئے ان پر سامان کی رقم ادا کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان مہنگی اشیاء کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اور انہوں نے ڈیلیوری مکمل کرنے کیلئے درکار ون ٹائم پاس ورڈز (OTPs) بھی شیئر نہیں کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اورکٹ کے بانی نے ’صاف ستھرا‘ سوشل میڈیا واپس لانے کیلئے آن لائن پٹیشن شروع کی
انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں ویرامنی نے اپنے فالوورز سے یہ سلسلہ بند کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ ڈیلیوری بوائز طویل فاصلہ طے کرکے آ رہے ہیں۔ ایسا کرنا بند کریں۔ آدھے گھنٹے میں پندرہ آرڈرز آ گئے، اور میرے پاس ان سب کیلئے پیسے نہیں ہیں۔“
کچھ پڑوسیوں نے بتایا کہ سوئگی (Swiggy) اور زومیٹو (Zomato) کے فوڈ ڈیلیوری بوائز بھی آرڈرز کے ساتھ ان کے پتے پر پہنچ گئے۔ ویرامنی نے کہا کہ وہ ڈیلیوری پارٹنرز کے بار بار چکر لگانے پر مجبور ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ انہوں نے انٹرنیٹ صارفین سے ان بیچاروں کو ہونے والی تکلیف کا خیال کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آٹھ ماہ کی محنت ضائع، اجنارندی میں دوبارہ کچرا جمع، بٹو تباہی پھر صفائی میں مصروف
مذاق کا سلسلہ جاری
ویرامنی کی اپیلوں کے باوجود آرڈرز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک اور ویڈیو میں ویرامنی نے کہا کہ وہ اس پریشانی اور ملنے والے ردِعمل کی وجہ سے شہر چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”میں شہر سے باہر جا رہا ہوں۔ لوگوں کی جانب سے لاکھوں روپے کے آرڈرز دینے کے بعد بہت سے لوگ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ وہ مجھے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔“ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں گردے کے عطیات کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے والے لوگوں کی کالز بھی موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسی نے ان کا فون نمبر اس مقصد کیلئے استعمال کیا ہے۔ ویرامنی نے ایک بار پھر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بن مانگے آرڈرز دینے کیلئے ان کے فون نمبر اور گھر کے پتے کا غلط استعمال نہ کریں۔