الہ آباد ہائی کورٹ کا سخت فیصلہ، ریاست بھر کے اساتذہ کوایک ہفتے کے اندر تقرری ناموں اور تعلیمی دستاویزات کی کاپیاں متعلقہ بنیادی تعلیمی افسران کو فراہم کرنے کی ہدایت۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 12:10 PM IST | Agency | Allahabad
الہ آباد ہائی کورٹ کا سخت فیصلہ، ریاست بھر کے اساتذہ کوایک ہفتے کے اندر تقرری ناموں اور تعلیمی دستاویزات کی کاپیاں متعلقہ بنیادی تعلیمی افسران کو فراہم کرنے کی ہدایت۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کو ریاست کے پرائمری اسکولوں میں کام کرنے والے اور پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کو پڑھانے والے تمام اساتذہ کے تقرری ناموں اور تعلیمی دستاویزات کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پرائمری اسکولوں کے تمام اساتذہ ایک ہفتے کے اندر اپنے تقرری ناموں اور تعلیمی دستاویزات کی کاپیاں متعلقہ بنیادی تعلیمی افسران (بی ای او) کو دستیاب کرائیں گے۔ بنیادی تعلیمی افسران ان دستاویزات کو ایس ٹی ایف کے دفتر میں جمع کریں گے۔
جسٹس ونود دیواکر نے ایس ٹی ایف کو ہدایت دی کہ وہ ضرورت پڑنے پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یا پولیس کمشنر کی مدد سے دستاویزات کی تصدیق کا نظام تیار کریں۔ ایک معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے پایا کہ۱۰؍ اساتذہ کی تقرری کیلئے ایک ہی سرٹیفکیٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن ان کارروائیوں پر نظر رکھیں گے۔ وہ روزانہ نگرانی کیلئے کسی افسر کو نامزد بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ مردم شماری میں نجی افراد کی خدمات سے سیاسی مداخلت بڑھے گی‘‘
عدالت نے کہا کہ اسی طرح ایس ٹی ایف کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل تصدیق اور جانچ کی نگرانی کریں گے۔ وہ بھی روزانہ نگرانی کیلئے کسی افسر کو نامزد کر سکتے ہیں۔ عدالت نے۱۶؍ اکتوبر کو دیئے گئے اپنے حکم میں وارننگ دی کہ کسی بھی افسر کی جانب سے کی گئی لاپروائی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور متعلقہ افسران کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت۴؍ نومبر کو ہوگی۔ عدالت نے مزید کہا کہ ’’یہ سب جانتے ہیں کہ طلبہ کی تعداد میں کمی کے باعث کئی پرائمری اسکول بند کر دیئے گئے ہیں۔ طلبہ کی تعداد وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ تعلیم کا معیار خراب ہونے کے سبب کم ہوئی ہے۔‘‘
عدالت نے کہا کہ ایک اچھے استاد کیلئے صرف مضمون کا علم ہی نہیں بلکہ پڑھانے کی صلاحیت، باقاعدگی سے حاضری، صبر اور بچوں کے ساتھ انصاف کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شخص تقرری کرنے والی اتھارٹی کو دھوکہ دے کر اپنے کریئر کا آغاز کرتا ہے اس سے بچوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے حکم دیا کہ تمام اساتذہ اپنے تمام دستاویزات ایک ہفتے میںبیسک سکشا ادھیکاری (بی ایس اے) کے پاس جمع کرائیں اور نوٹری شدہ حلف نامہ بھی فراہم کریں جس میں وہ بتائیں کہ آیا ان کا کوئی قریبی رشتہ دار محکمہ تعلیم میں بی ایس اے یا اس سے اوپر کے عہدے پر ملازم ہے یا سبکدوش ہوا ہے۔ قریبی رشتہ داروں میں شوہر/بیوی، باپ/والد، بیٹا/بیٹی، داماد، بہو، ساس، سسر، بہنوئی، اور کزن شامل ہیں۔ اگر ایسا کوئی رشتہ دار نہ ہو، تو بھی انہیں حلف نامہ دینا ضروری ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ تمام بی ایس ایز ہیڈ ماسٹروں اور قائم مقام ہیڈ ماسٹروں کو فوری طور پر احکامات جاری کریں۔
یہ بھی پڑھئے:منوج جرنگے کا کسان تنظیموں کو متحد کرکے حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانے کا اعلان
دستاویزات حاصل کرنے کے بعد، ایک ایکسل شیٹ جس میں اساتذہ کے نام، تقرری کی تاریخیں، تعلیمی قابلیت، اُس وقت درکار کم از کم قابلیت اور گزٹ کے مطابق حاصل کردہ میرٹ وغیرہ شامل ہیں، تیار کی جائیں گی اور اس کے ساتھ اسپیشل ٹاسک فورس کی متعلقہ رینج کو دستاویزات کے ساتھ بھیجی جائیں گی۔ ایس ٹی ایف رینج چیف تصدیق کی نگرانی کرے گا اور اگر ضروری ہوا تو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، یا کمشنر آف پولیس سے مدد حاصل کر سکے گا۔
واضح رہے کہ موجودہ معاملے میں خاتون ٹیچر کُسم لتا کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کے دوران ایس ٹی ایف کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ عرضی گزار نے کُسم لتا شریواستو نامی خاتون کے تعلیمی دستاویزات کا استعمال کر مبینہ طور پر فرضی طریقے سے ملازمت حاصل کی۔ کُسم لتا شریواستو پہلے ہی سے گورکھپور میں اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ایس ٹی ایف کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں اساتذہ نے فرضی دستاویزات کی بنیاد پر ملازمت حاصل کی ہے۔ کئی معاملات میں۱۰؍ یا اس سے زائد لوگوں نے تعلیمی دستاویزات کے ایک ہی سیٹ کی بنیاد پر ملازمت حاصل کی۔