Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالونی :رام نومی شوبھا یاترا میں اشتعال انگیزی سے گریزکرنے کا مطالبہ

Updated: March 26, 2026, 1:05 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اشتعال انگیز نعرے والی ہورڈنگز لگائی گئیں۔ ایک وفد کی اے سی پی سے ملاقات ۔ مساجد کے سامنے ڈھول تاشہ نہ بجانے کی درخواست۔

Members Of The Delegation Against Provocations On Ram Navami Giving A Memorandum To ACP.Photo:INN
رام نومی پر اشتعال انگیزی کے خلاف وفد میں شامل افراد اے سی پی کومیمورنڈم دیتے ہوئے- تصویر:آئی این این
 جمعرات (آج) کو رام نومی کے موقع پر مالونی میں جگہ جگہ ہورڈنگز لگائی گئی ہیں اورایک مرتبہ پھر سیاسی روٹی سینکتے ہوئے اشتعال انگیزی کی کوشش کی گئی ہے۔ کسی ہورڈنگ پر لکھا گیا ہے ’راج تلک کی کرو تیاری آ رہے ہیں بھگوا دھاری‘ توکسی پر ’ایودھیا میںشری  رام اور مالونی میں ایودھیا ‘ لکھا ہے ۔ 
قارئین کو یاد ہوگا کہ اسی موقع پرتین برس قبل مالونی کا ماحول خراب کیا گیا تھا اورپولیس کی یکطرفہ کارروائی میں ۲۱؍مسلم نوجوانوں پر کیس درج کرنے اور ان کو گرفتار کرنے کے ساتھ بیچ بچاؤ کرنے اورماحول بگڑنے سے بچانے میں اہم رول ادا کرنے والے جمیل مرچنٹ کو کلیدی ملزم بنایا گیا  تھا، یہ کیس اب بھی چل رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک وفد نے اے سی پی سے ملاقات کی اور ماحول خراب نہ ہو، اس پر توجہ دلانے کے ایک لیٹر بھی دیا ۔ 
اے سی پی سےکئی اہم مطالبات 
رام نومی جلوس کے دوران   امن و امان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں ، مالونی این جی اوز اور سٹیزنس فورم اور سوشل ورکرز کے ذریعے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس، مالونی ڈویژن   نیتا پاڈوی سے ملاقات میںان کے سامنے سابقہ واقعات کاتذکرہ کیا ۔ خاص احتیاطی تدابیر کا مطالبہ کیاگیا۔ ان میں جلوس کیلئے تحریری اجازت سے قبل منتظمین سے سختی سے ہدایات پر عمل آوری، نفرت انگیز تقاریر پر سخت پابندی، ساؤنڈ سسٹم کی سختی سے تعمیل، جسٹس ریوتی ڈیرے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مسجد اور عبادت گاہ کے سامنے اشتعال انگیزی پر سخت کارروائی، تلواریں یا دیگر ہتھیار رکھنے پر روک وغیرہ شامل ہے ۔ اس کے علاوہ جلوس کی ڈرون کے ذریعے نگرانی اور ویڈیو گرافی کرنا اور عادی مجرموں کو پہلے سے کنٹرول کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ 
 
 
ان مطالبات اوراہم نکات پراے سی پی نیتا پاڈوی نے عمل درآمد اورپولیس کی جانب سے پیشگی تیاری رکھنے کا حوالہ دیا ۔اے سی پی ملاقات سے کےلئے جانے والے وفد میں سابق کارپوریٹر سراج شیخ ، انور شیخ ،شادان صدیقی ، صباح الدین ، دانش اوردیگر افراد شامل تھے۔
 
 
’’لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنا پولیس کی ڈیوٹی ہے ‘‘
اس تعلق سے سابقہ حالات اورپولیس کے ذریعے کلیدی ملزم بنائے  گئے جمیل مرچنٹ نے کہا کہ’’ لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنا پولیس کی ڈیوٹی ہے ۔ جلوس نکالنے یا تہوار منانے کی سبھی کوآزادی ہے مگر اس کی آڑ میں جو کھیل کھیلاجاتا ہے اور جس طرح پُرامن ماحول کوخراب کرنے کی منصوبہ بند کوشش کی جاتی ہے،اس پر روک لگانا اور ایسی طاقتوں کے خلاف سخت ایکشن لینا پولیس کا کام ہے، دیکھنا ہوگا کہ اس دفعہ پولیس اس کے لئے کیا طریقہ اپناتی ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK