صحیح طریقے سے سروے نہ کرنے کا افسران پرالزام۔ بینر لگائے گئے۔ ڈیولپمنٹ کا ٹھیکہ اڈانی کو دینے کی بھی بازگشت۔ اس کے خلاف وزیراعلیٰ اورایس آراے کے سی ای او سے تحریری شکایت۔
EPAPER
Updated: June 21, 2026, 2:22 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Malvani
صحیح طریقے سے سروے نہ کرنے کا افسران پرالزام۔ بینر لگائے گئے۔ ڈیولپمنٹ کا ٹھیکہ اڈانی کو دینے کی بھی بازگشت۔ اس کے خلاف وزیراعلیٰ اورایس آراے کے سی ای او سے تحریری شکایت۔
مالونی میں ایس آر اے کے تحت سروے کی ایک بڑے طبقے کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ سروے کرنے والے افسران کے ذریعے صحیح طریقے سے وضاحت نہ کئے جانے اور مکانات کی ٹھیک ڈھنگ سے گنتی نہ کرنے سے مکینوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اس کی مخالفت میں بڑے بینر بھی لگائے گئے ہیں۔ اسی طرح متعدد سوالات کے ساتھ اس با ت کی بھی بازگشت ہے کہ مالونی کوبھی ڈیولپمنٹ کےلئے اڈانی کےحوالے کیا جارہا ہے۔ اس سےمکینوں میں مزید تشویش پائی جارہی ہے۔
یادرہےکہ دھاراوی کی ۶۰۰؍ایکڑ زمین کی طرح مالونی میں بھی ۶۴۱؍ ایکڑزمینات ہیں۔ یہ زمینیں پرائیویٹ، کلکٹر، بی ایم سی اور مہاڈا کی ملکیت ہیں ۔ اس کی ریاستی حکومت کی جانب سے گزشتہ مانسون اجلاس کے دوران ناگپور میں وضاحت کی گئی تھی اوروزیراعلیٰ، متعلقہ وزیر اورسینئر افسران کےساتھ مقامی ایم ایل اے اسلم شیخ کے ساتھ میٹنگ کی گئی تھی۔
سروے کی مخالفت میں بینر پرکیا لکھا گیا
پچھم پورو، سانے گروجی وساہت ‘کی جانب سے ایس آراے سروے کی مخالفت کرتے ہوئے گیٹ نمبر ۵؍پر لگائے گئے بینرپر لکھا گیا کہ ’’شدید مخالفت، شدید مخالفت، ہماری کالونی ’جھوپڑپٹی‘ نہیں ہے۔ ایس آر اے (سلَم ری ہیبلیٹیشن اتھاریٹی) کی طرف سے ہماری قانونی کالونی کے گھروں کو ’جھوپڑپٹی ‘قرار دے کر نمبر دینا اور غیر قانونی سروے کرنا قابلِ مذمت ہے۔ اس کارروائی کے خلاف تمام مکین اجتماعیت کے ساتھ شدید مخالفت کرتے ہیں ۔ ’جھوپڑپٹی‘ کا لفظ فوراً واپس لیا جائے۔ ہماری اجازت کے بغیر کالونی میں کوئی غیر قانونی سروے نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہمارے مالکانہ حقوق والے گھروں پر ایس آر اےکا قبضہ یا مداخلت بند کی جائے۔ ‘‘ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ’’ ہم ٹیکس ادا کرنے والے اور اپنے حقوق کے مالک ہیں، جھوپڑ پٹی والے نہیں۔ آیئے، متحد ہو کر لڑیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ادھو ٹھاکرے کبھی استعفیٰ نہیں دیں گے، بی جے پی کے ریاستی چیف ترجمان کی تنقید
سروے کیخلاف ایس آراے میں تحریری شکایت
کارپوریشن الیکشن میں قسمت آزمائی کرنے والے محمد اسماعیل شیخ نےنمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ ’’ ایس آراے کاسروے صحیح نہیں کیا جارہا ہے، مکانات اور دکانوں کے نمبرات صحیح طریقے سے نہیں ڈالے جارہے ہیں۔ سروے کرنےوالے اہلکار اس طرح تیزی سے گزرجاتے ہیں جیسے وہ مکانات کی باضابطہ تفصیل درج نہ کرتے ہوئے محض خانہ پُری کررہے ہیں۔ جن کے قانوناً دو مکانات ہیں ان کے بھی دو مکانات کا اندراج نہیں کررہے ہیں۔ ‘‘
انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’ اس کے خلاف ہم نےمالونی سٹیزنس فورم کی جانب سے وزیراعلیٰ دویندر فرنویس، ایس آر اے کےسی ای اوڈاکٹر مہیندر پی کلیانکر اورسچن گری سے تحریری شکایت کی ہے اوریہ مطالبہ کیا ہے کہ سروے کے لئے پہلےبتایا جائے، مکینوں کی رہنمائی کی جائے، پروجیکٹ کی وضاحت کی جائے اور ۲؍ماہ کی مہلت دی جائے، اس کے بعد سروےشروع کیا جائے تاکہ باضابطہ سروے ہوسکے۔ ‘‘ محمداسماعیل شیخ نےایس آر اے کے ایک سینئر افسر کےحوالے سے یہ بھی بتایا کہ ’’ مالونی کا ڈیولپمنٹ خاص طور پر سی آر زیڈ، اولڈ اور نیوکلکٹر کمپاؤنڈ کا ڈیولپمنٹ اڈانی کے ذریعے کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے، اس سے لوگوں میں مزید تشویش پائی جارہی ہے۔ ‘‘
گیٹ نمبر۷؍ میں رہنے والے عبدالرحیم انصاری نے بتایاکہ ’’ سروے کرنے والے افسران تو اس طرح سے کام کررہے ہیں جیسے ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ اتنے گھنٹے میں اتنے مکانات کی آدھی ادھوری تفصیل لکھ کر دو۔ کہیں اس طرح سے سروے ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کے سر پرچھت رہنے اورچھننے کا سوال ہے۔ ‘‘