Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگا: سویٹزرلینڈ میں مذاکرات سے قبل تہران کا بیان

Updated: June 21, 2026, 5:05 PM IST | Bern

` سویٹزرلینڈ میں امریکہ-ایران مذاکرات سے قبل تہران کا بیان سامنے آیا ،جس میں کہا گیا ہے کہ لبنان مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگا، یہ اجلاس اس معاہدے کے بعد پہلا موقع ہوگا جب دونوں فریقوں نے جنگ ختم کرنے کے لیے ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

An Iranian delegation has arrived in Switzerland to participate in the talks. Photo: PTI
مذاکرات میں شرکت کرنے ایرانی وفد سویزرلینڈ پہنچ چکا۔۔ تصویر: پی ٹی آئی

جیسے ہی امریکی، ایرانی اور پاکستانی وفود اتوار۲۱؍ کو جون کو مشرق وسطیٰ میں تنازع پر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے سویٹزرلینڈ پہنچے، تہران نے اشارہ دیا کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی ’’مذاکرات کا مرکزی موضوع‘‘ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر اہم مسائل جیسے ایران کے منجمد اثاثےاور ملک کی تیل کی فروخت بھی ایجنڈے میں شامل ہوں گی۔ واضح رہے کہ  یہ اجلاس اس معاہدے کے بعد پہلا موقع ہوگا جب دونوں فریقوں نے جنگ ختم کرنے کے لیے ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ 
بعد ازاں وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری نیوز ایجنسی آئی آر این اے کے ذریعے جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ’’ صہیونی حکومت لبنان میں اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتی جا رہی ہے، یہ مسئلہ آج کے مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگا ‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایران کے منجمد یا محدود اثاثوں کو قابلِ دسترس بنانے کا مسئلہ، نیز ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری لائسنس جاری کرنے سے متعلق گفتگوبھی ایجنڈے میں شامل ہوگی۔‘‘یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کی فوج نے۲۰؍ جون کو اعلان کیا تھا کہ اس نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ اگرچہ بقائی کے سنیچر کو یہ کہنے کے بعدکہ لبنان میں ایک نازک جنگ بندی قائم ہو گئی ہے، کوئی تازہ حملہ درج نہیں کیا گیا ۔
دریں اثناءایران، امریکہ اور پاکستان کے وفود سویٹزرلینڈ پہنچ گئےایرانی وفد جس کی قیادت سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے، سنیچر۲۰؍ جون کی رات دیر گئے سویٹزرلینڈ پہنچا۔ایکس پر ایک بیان میں، سوئس وزارت خارجہ نے کہا، ’’ہم ایرانی وفد کے سویٹزرلینڈ آمد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات ریاستہائے متحدہ کے ساتھ دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اتوار۲۱؍ جون کی صبح سوئس ہل ریزورٹ برگن اسٹاک پہنچے تاکہ ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کریں۔ وینس نے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے روانگی سے قبل صحافیوں کو بتایا، ’’میرے خیال میں ہم امید کرتے ہیں کہ جوہری مسئلے پر پیش رفت ہوگی، لبنان جنگ بندی کے مسئلے پر پیش رفت ہوگی۔ یہ دو بڑی چیزیں ہیں جن پر ہمیں توجہ مرکوز کرنی چاہیے ۔‘‘اور کہا کہ وہ صرف ایک یا دو دن کے لیے مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ عاصم منیر بھی مذاکرات کے لیے سویٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ ایکس پر شریف کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا، ’’وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نفاذ پر اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔‘‘
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران نے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل طور پر دستخط کیے۔اس ۱۴؍ نکاتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے متعلقہ اتحادی ’’لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا کوئی فوجی کارروائی شروع نہ کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے، اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنانےکا عہد کرتے ہیں۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ حتمی معاہدے کے۳۰؍ دنوں کے اندر ایرانی سرزمین کے قریب تعینات اپنی افواج کو واپس بلا لے گا۔مزید برآں یادداشت کے تحت، ایران سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولے گا اور۶۰؍ دنوں کے لیے تجارتی جہازوں کو بغیر کسی ٹول کے محفوظ گزرنے کی اجازت دے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK