ہندوستان میں مریض بعض طبی آلات کے لیے فیکٹری یا درآمدی قیمت کے مقابلے میں ۲۵؍ گنا تک زیادہ رقم ادا کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 6:06 PM IST | New Delhi
ہندوستان میں مریض بعض طبی آلات کے لیے فیکٹری یا درآمدی قیمت کے مقابلے میں ۲۵؍ گنا تک زیادہ رقم ادا کرتے ہیں۔
ہندوستان میں مریض بعض طبی آلات کے لیے فیکٹری یا درآمدی قیمت کے مقابلے میں ۲۵؍ گنا تک زیادہ رقم ادا کرتے ہیں۔ ملک کے اندر میڈیکل ڈیوائس بنانے والی کمپنیوں نے حکومت کو بتایا ہے کہ انہیں ہسپتالوں اور ریٹیلرز کے مارجن برقرار رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمتیں (MRPs) بڑھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ڈومیسٹک ڈیوائس مینوفیکچررز کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم نے تقریباً دو سال سے خطوط اور ملاقاتوں کے ذریعے مرکز سے بار بار مطالبہ کیا ہے کہ ٹریڈ مارجن اور ایم آر پی کو ریگولیٹ کیا جائے تاکہ قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکا جا سکے۔ دی ٹیلیگراف کے جائزے کے مطابق یہ بات دستاویزات اور پریزنٹیشنز سے سامنے آئی ہے۔
اسوسی ایشن آف انڈین میڈیکل ڈیوائسز (اے آئی ایم ای ڈی )(AIMED)، جو ۳۰۰؍ ڈیوائس ساز کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ہے، نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریڈ مارجن اور ایم آر پی کی حد مقرر کی جائے تاکہ ’’ایک منصفانہ، شفاف اور مریض مرکوز میڈیکل ڈیوائس مارکیٹ ‘‘قائم ہو سکے۔
اے آئی ایم ای ڈی کے کوآرڈینیٹر راجیو ناتھ نے کہاکہ ’’مریضوں کو اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس کا زیادہ علم نہیں ہے۔ ہم جو نئے ضوابط چاہتے ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ مصنوعی طور پر بڑھائی گئی ایم آر پیز کو مریضوں تک منتقل ہونے سے روکا جائے۔‘‘ٹریڈ مارجن پر حد مقرر کرنے سے مقامی آلات سازوں کو بھی غیر ملکی مصنوعات کے مقابلے میں برابر کا موقع ملے گا، جو ہندوستانی میڈیکل ڈیوائس مارکیٹ کا تقریباً ۷۰؍ فیصد حصہ رکھتی ہیں۔ اس مارکیٹ کی مالیت تقریباً ۳ء۱؍لاکھ کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔
اے آئی ایم ای ڈی کے مطابق میڈیکل ڈیوائسز کی مارکیٹ کھلی مسابقت کے اصول پر کام نہیں کر رہی، جس کے نتیجے میں قیمتیں خود بخود کم نہیں ہوتیں۔ کمپنیوں کو اکثر اسپتالوں اور ریٹیلرز کے مارجن کو پورا کرنے کے لیے ایم آر پی بڑھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ڈریسنگ، بینڈیجز اور پلاسٹر بنانے والی ایک کمپنی کے مطابق وہ اپنی مصنوعات کی فیکٹری لاگت سے چار سے پانچ گنا ایم آر پی مقرر کر سکتی ہے، لیکن اسپتال اور ریٹیلرز۱۰؍ سے ۲۰؍ گنا زیادہ قیمت والی مصنوعات کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آئی سی سی خواتین چیلنج ٹرافی: نیپال، اٹلی، امریکہ اور روانڈا میں سخت مقابلہ
ایک کمپنی کے سی ای او منیش سبروال نے کہاکہ ’’ہمیں اکثر اسپتالوں کے پرچیز آفیسرز کی طرف سے زبانی طور پر کہا گیا ہے کہ ہمیں ایم آر پی بڑھانی چاہیے۔ جتنی زیادہ ایم آر پی ہوگی، اسپتالوں کا مارجن اتنا ہی زیادہ ہوگا۔‘‘ ایک سرنج جس کی تیاری کی لاگت ۳؍ روپے ہے، مناسب ٹریڈ مارجن کے ساتھ ۱۲؍ روپے میں فروخت ہو سکتی ہے، لیکن اس پر۳۰؍ روپے کا ٹیگ لگا ہوتا ہے۔ ایک پیس میکر جو۲۵؍ہزار روپے میں درآمد کیا جاتا ہے، ۷۵؍ہزارروپے کے قریب قیمت پر دستیاب ہو سکتا ہے، مگر اس کی ایم آر پی۲؍ لاکھ روپے تک درج ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک ہارٹ والو جو ۴؍ لاکھ روپے میں درآمد ہوتا ہے، ۸؍لاکھ میں فروخت ہو سکتا ہے لیکن اس کی ایم آر پی ۲۶؍ لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیم راجستھان کے قلعہ میں نقب لگانے اترے گی
ایک پریزنٹیشن میں اے آئی ایم ای ڈی نے تین طرفہ اسٹاپ کاک کی مثال دی، جو آئی وی فلوئڈز یا ادویات دینے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے، جہاں ریٹیل قیمت اصل لاگت سے ۲۵؍ گنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسے اسٹاپ کاکس جن کی فیکٹری یا درآمدی قیمت ۵؍سے ۱۶؍ روپے کے درمیان ہے، وہ ۹۵؍ سے ۱۳۶؍ روپے میں فروخت کیے جاتے ہیں۔ ایک برانڈ جس کی فیکٹری قیمت ۶۰ء۵؍ روپے ہے،۱۳۶؍ روپے میں درج ہے، جبکہ ایک اور جو ۱۵؍ روپے میں درآمد ہوتا ہے،۱۰۵؍ روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اے آئی ایم ای ڈی نے یہ مثالیں جولائی ۲۰۲۴ء میں محکمہ فارماسیوٹیکلز کو بھیجے گئے ایک خط میں پیش کیں، جو ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے والا مرکزی ادارہ ہے۔ انڈسٹری باڈی نے نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی(این پی پی اے) کو بھی خط لکھا ہے، جس کے پاس ادویات اور بعض میڈیکل ڈیوائسز کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے کا اختیار ہے۔