Updated: June 13, 2026, 6:59 PM IST
| Tehran
ایران نے اعلان کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ۴؍ جولائی سے شروع ہوں گی اور ۹؍ جولائی کو مشہد میں تدفین کے ساتھ اختتام پذیر ہوں گی۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم امن معاہدہ آئندہ چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔
ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ۴؍ جولائی سے شروع ہوں گی، جبکہ ان کی تدفین ۹؍ جولائی کو مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے قریب کی جائے گی۔ یہ فیصلہ ان کی وصیت کے مطابق کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے اسلام کی اہم ترین مذہبی شخصیات کے قرب میں دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق چھ روزہ سوگ اور آخری رسومات کا آغاز تہران سے ہوگا، جہاں ۴؍ جولائی کو عوامی اجتماع ہوگا۔ اس کے بعد ۷؍ جولائی کو قم میں اس کا ایک حصہ ہوگا، جبکہ ۹؍ جولائی کو مشہد میں تدفین عمل میں آئے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران جنگ ختم کرنے کا دعویٰ
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً ۳۷؍ برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ وہ ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو تہران میں اپنے دفتر اور رہائش گاہ پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی مشترکہ فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے یکم مارچ کو ان کی موت کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی نئی اعلیٰ قیادت سونپی گئی۔ مجتبیٰ خامنہ ای خود بھی حملے میں زخمی ہوئے تھے اور بعد ازاں انہیں سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کا شکار ملک بن گیا: اسرائیلی اخبارکی رپورٹ
ایران امریکہ امن معاہدہ تکمیل کے قریب
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ ہفتے کے اختتام یا پیر تک طے پا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں ترک کرے گا، آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلا رکھے گا اور کشیدگی میں کمی لانے کے اقدامات کرے گا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ’’پہلے سے کہیں زیادہ قریب‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق معاہدے کے متن پر بنیادی اتفاق رائے تک پہنچ چکے ہیں اور آئندہ ۲۴؍ گھنٹوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان بھی اس سفارتی عمل میں معاون کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ، آسٹریلیا اور کنیڈا کا دو ریاستی حل کیلئے مشترکہ فنڈ قائم کرنے کا اعلان
تاہم ایرانی حکومت نے ابھی تک ان دعوؤں کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی حتمی تفصیلات اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور ایران امریکہ مذاکرات تقریباً ایک ہی وقت میں ہونے کے باعث مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ ایک جانب ایران اپنی طویل ترین مذہبی و سیاسی قیادت کو الوداع کہہ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں کئی ماہ سے جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی امید پیدا ہو رہی ہے۔