کہا کہ ’’ووٹ دینے کے عمل کو اسپائی کیمرے سے ریکارڈ کیا گیا‘‘وزیراعلیٰ فرنویس نے الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ ’’اسپائی پین مجھے بھیجیں‘‘
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 12:44 PM IST | Ali Imran / Agency | Nagpur/ Mumbai
کہا کہ ’’ووٹ دینے کے عمل کو اسپائی کیمرے سے ریکارڈ کیا گیا‘‘وزیراعلیٰ فرنویس نے الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ ’’اسپائی پین مجھے بھیجیں‘‘
مہاراشٹر قانون ساز کونسل کی ۵؍ نشستوں پر ہونے والے الیکشن کیلئے جمعہ کوووٹنگ عمل میں آئی۔ اسی دوران نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچندر پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سلے نے بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سپریہ سلے کا دعویٰ ہے کہ پونے کے اساتذہ اور گریجویٹ حلقۂ انتخاب میں ووٹنگ کے دوران اسپائی کیمرے والے پین استعمال کئے گئے اور ووٹ کے بدلے پیسے دئیے گئے ۔
سپریا سلے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ پولنگ مراکز کے باہر ووٹروں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جیب میں خفیہ کیمرے والا پین رکھیں۔سُلے نے لکھا کہ پونے کے اساتذہ اور گریجویٹ حلقۂ انتخاب کے انتخابات کے دوران بی جے پی کی جانب سے پیسے تقسیم کرنے کے لیے خفیہ کیمروں (اسپائی کیمرے) والے پین استعمال کیے جانے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ اس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ ووٹر کی جیب میں ایسا پین رکھ دیا جاتا ہے، جو بی جے پی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے عمل کو ریکارڈ کر لیتا ہے۔ ووٹ ڈالنے کے بعد جب ووٹر یہ ریکارڈنگ دکھاتا ہے، تو اسے طے شدہ رقم ادا کر دی جاتی ہے۔ سپریا سلے نے کہا کہ یہ الزامات انتہائی سنگین اور تشویش ناک ہیں۔ الیکشن کمیشن اور حکومت کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ اس طرح کی سرگرمیاں ووٹنگ کی رازداری اور ووٹروں کی آزادی کو ختم کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رام کدم کے پاس آڈیو کلپ کی تاریخ کہاں سے آئی؟: منوج جرنگے
وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس نے ناگپور ڈویژن کے گریجویٹ حلقۂ انتخاب کے لئے اپنا ووٹ ڈالا۔ ووٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سیاسی سرگرمیوں پر تفصیلی بات کی۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ منوج جرنگے پاٹل کی جانب سے سامنے لائی گئی آڈیو کلپ کی فارینسک جانچ کرائی جائے گی۔ اس کے علاوہ پونے میں بی جے پی کی جانب سے ’اسپائی پین‘ کے استعمال کے الزامات پر انہوں نے سپریا سلے کو بھی طنز کا نشانہ بنایا۔
پونے گریجویٹ حلقۂ انتخاب میں بی جے پی کی جانب سے ووٹروں میں رقم تقسیم کرنے کے لیے ’اسپائی پین‘ استعمال کیے جانے کا الزام اپوزیشن نے لگایا تھا۔ اس الزام پر وزیرِ اعلیٰ فرنویس نے کہا کہ ’’اسپائی پین اصل میں کیا ہوتا ہے اور وہ کیسا دکھائی دیتا ہے، یہ سپریا تائی مجھے ضرور بھیجیں۔ اس سے مجھے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ اسپائی پین کیا ہے اور اصل میں کیا معاملہ چل رہا ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’لوگوں میں ووٹ ڈالنے کا زبردست جوش نظر آ رہا ہے اور عام انتخابات جیسا ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ قانون ساز کونسل تجربہ کار نمائندوں کا ایوان ہے، اس لیے تمام گریجویٹ اور اساتذہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالیں۔‘‘