کہا کہ رام داس کدم دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے کے درمیان اختلافات پیدا کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 12:36 PM IST | ZA Khan | Jalna
کہا کہ رام داس کدم دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے کے درمیان اختلافات پیدا کررہے ہیں۔
مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈرمنوج جرنگے پاٹل نے شیوسینا لیڈر رام داس کدم اور ان کے بیٹے یوگیش کدم پر شدید تنقید کی ۔ جرنگے نے کہا کہ کدم لوگوں کو ابہام میں ڈال رہے اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ رام داس کدم کو متنازع آڈیو کلپ کی تاریخ کیسے معلوم ہوئی، جبکہ خود انہیں بھی اس تاریخ کا علم نہیں تھا۔ جرنگے پاٹل نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ اس معاملے کی مکمل جانچ کرائیں اور اس کے پیچھے موجود حقیقت کو سامنے لائیں۔منوج جرنگے پاٹل نے کہا کہ رام داس کدم اس معاملے میں حد سے زیادہ جلد بازی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے رام داس کدم کو ہمیشہ ’بھاؤو(بھائی)‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ میں رام داس کدم اور نارائن رانے دونوں کا احترام کرتا ہوں۔ ایکناتھ شندے کو بدنام کرنا میرا مقصد نہیں ہے، لیکن آڈیو کلپ کی تاریخ خود رام داس کدم ظاہر کر رہے ہیں۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شندے کے ساتھ ہیں یا بی جے پی کے ساتھ؟‘‘
یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر لیجسلیٹو کونسل کی ۵؍ سیٹوں کیلئے پولنگ مکمل
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں۵۰۰؍ کروڑ روپے دیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو یہ بات مراٹھا سماج کے سامنے واضح طور پر پیش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب آڈیو کال میں آپس میں بات چیت کرنے والے لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ رقم دی گئی تھی تو ان سے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی جاتی کہ انہوں نے ایسا دعویٰ کس بنیاد پر کیا؟ منوج جرنگے نے متنازع آڈیو کلپ کو حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب کوئی یہ نہ کہے کہ یہ کلپ اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے یا جعلی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جس دور کی یہ ریکارڈنگ بتائی جا رہی ہے، اس وقت اے آئی تکنیک اس قدر ایڈوانس نہیں تھی کہ اس طرح کا کام کر سکے۔انہوں نے کہا کہ اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے آڈیو کلپ کو جعلی قرار دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ جرنگے پاٹل نے خبردار کیا کہ اگر ہر مرتبہ ایسے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا گیا تو اسکے نتائج متعلقہ افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی جانچ میں حکومت کو ہر ممکن تعاون دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن حقیقت کا سامنے آنا ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مراٹھا ریزرویشن تحریک کو کچلنے کے لیے واقعی رقم دی گئی تھی؟ ان کے مطابق یہ حقیقت سامنے آنی چاہیے کہ اس معاملے میں کون کون ملوث ہے اور متعلقہ افراد کے رابطے کن لوگوں سے ہیں۔ وہ جلد ہی اس معاملے میں ملوث افراد کے بارے میں تفصیلات سامنے لائیں گے۔