Updated: September 11, 2026, 4:07 PM IST
| New Delhi
وزیر اعظم نریندر مودی نے جرمنی کے وفاقی چانسلر فریڈرک مرز سے بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ہندوستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی، تعلیم، ہنرمند افرادی قوت اور سبز توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مزید مضبوط بنانے پر مسلسل توجہ دی جارہی ہے۔
نریندر مودی۔ تصویر:پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے جرمنی کے وفاقی چانسلر فریڈرک مرز سے بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ہندوستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی، تعلیم، ہنرمند افرادی قوت اور سبز توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مزید مضبوط بنانے پر مسلسل توجہ دی جارہی ہے۔ ۲۰۲۶ء میں دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی ۷۵؍ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں، جبکہ ہندوستان اور جرمنی کی اسٹریٹجک شراکت داری کو ۲۵؍ سال مکمل ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:جیا بچن سے موازنہ میرے لیے اعزاز ہے: تاپسی پنو
ہندوستان اور جرمنی کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں تیزی آئی ہے۔ جنوری ۲۰۲۶ء میں چانسلر فریڈرک مرز نے ہندوستان کا سرکاری دورہ کیا تھا، جس کے دوران وزیر اعظم مودی اور مرز نے دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور کے ساتھ ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی تھی۔ دونوں لیڈروں نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ دفاع اور سلامتی کے شعبے میں دونوں ممالک مشترکہ مشقوں، تربیت اور اعلیٰ سطحی فوجی تبادلوں کے ذریعے تعاون بڑھانے پر کام کررہے ہیں۔ ہندوستان اور جرمنی نے دفاعی صنعتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، جبکہ جرمنی نے ہندوستان میں ہونے والی مختلف بحری اور فضائی سرگرمیوں میں شرکت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈی آر ڈی او اور یورپی دفاعی تعاون سے متعلق اداروں کے درمیان جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور یورو ڈرون پروگرام جیسے شعبوں میں بھی تعاون جاری ہے۔ اقتصادی محاذ پر تجارت اور سرمایہ کاری ہندوستان-جرمنی تعلقات کا اہم ستون ہے۔ دونوں ممالک ٹیکنالوجی، آٹوموبائل، دفاع، جہاز سازی، اسمارٹ انفراسٹرکچر، ادویات، کیمیکل، بایوٹیکنالوجی، صنعتی انجینئرنگ اور توانائی جیسے شعبوں میں کاروباری تعاون بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔ ہندوستان اور جرمنی نے کاروباری اداروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے انڈو جرمن سی ای او فورم کے ذریعے بھی روابط مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مشکل حالات سے نمٹنے میں ناکامی پر سعود شکیل مایوس، کہا: ہم بار بار وہی غلطیاں کر رہے ہیں
جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق بھی دونوں ممالک کے ایجنڈے میں نمایاں ہے۔ سیمی کنڈکٹرس، کریٹیکل منرلز، ڈجیٹلائزیشنز، ہیلتھ اور بائیو اکنامی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم، تحقیق، پیشہ ورانہ تربیت اور ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت کو بھی دو طرفہ تعلقات کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی اور چانسلر مرز کے درمیان رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستان اور جرمنی عالمی سطح پر بدلتے ہوئے جغرافیائی و اقتصادی حالات کے درمیان اپنے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی شراکت داری نہ صرف دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بلکہ دفاع، ٹیکنالوجی، توانائی اور ہنرمند افرادی قوت کے شعبوں میں بھی نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔