فریقین نے منامہ میں ہوئے ایک اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق مشکلات اور صورت حال کا جائزہ لیا۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 2:10 PM IST | Agency | Manama
فریقین نے منامہ میں ہوئے ایک اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق مشکلات اور صورت حال کا جائزہ لیا۔
خلیج تعاون کونسل اور روس نے جہاز رانی کو درپیش خطرات کے مضمرات کا جائزہ لیا ہے۔ وزارتی سطح کے ایک اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق مشکلات اور صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے یہ وزارتی اجلاس بحرینی دارالحکومت منامہ میں اتوار کے روز طلب کیا گیا تھا۔یہ اجلاس خطے میں قیام امن اور محفوظ تجارتی نقل و حملے کو درپیش چیلنجوں پر تبادلہ خیال اور باہمی تعاون کے علاوہ خلیجی ملکوں اور روس کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے تھا۔ اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے علاوہ ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف نے شرکت کی۔ وزرائے خارجہ نے علاقائی و بین الاقوامی امور سے متعلق باہمی مشاورت و تعاون کے سلسلے کو مزید گہرا اور موثر بنانے کے بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیز جاری کشیدگی کے پورے خطے کیلئے مضمرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکائے اجلاس نے تنازعات کے پر امن تصفیے پر بھی زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ: فلسطینی کمہار نے والدین کیلئے مٹی سے گنبد نما مکان بنایا، محفوظ چھت دینے کی کوشش
اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اجلاس کے حاشیہ پر روسی وزیر خارجہ سے ایک الگ سے ملاقات بھی کی ہے۔ اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ علاقے کی کشیدہ صور حال پر بھی غور کیا گیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے یمن کے حالات اورحوثی باغیوںکی جارحیت کا بھی جائزہ لیا۔ نیز جہاز رانی کو درپیش مسائل پر بھی بات چیت کی گئی ہے جو آبنائے ہرمز اور باب المندب کے بند کئے جانے کے سبب پیدا ہوئے ہیں۔ ان دونوں آبی گزرگاہوں کو کھلوانے کے لیے جاری پر امن کوششوں کی بھی حمایت کی گئی۔