اول تو یہی حیرت انگیز ہے کہ کمیشن نے ۱۶؍ لاکھ افراد کی ووٹر لسٹ میں شمولیت کو چیلنج کیا ہے، دوم یہ ہے کہ جن پر اعتراض کیاگیا ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
EPAPER
Updated: October 04, 2026, 11:43 AM IST | Kolkata
اول تو یہی حیرت انگیز ہے کہ کمیشن نے ۱۶؍ لاکھ افراد کی ووٹر لسٹ میں شمولیت کو چیلنج کیا ہے، دوم یہ ہے کہ جن پر اعتراض کیاگیا ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
انڈین ایکسپریس کے اس انکشاف پر ہی حیرت کااظہار کیا جارہاتھا کہ الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں لاکھوں افراد کے ووٹر لسٹ میں شمولیت کو چیلنج کیا ہے، اب ’دی وائر‘ نےمذکورہ اپیلوں کا تجزیہ کرنے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ کمیشن نے جن ناموں کو چیلنج کیا ہے ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایف ڈی اے نے پونے میں سپلا کے گودام کا لائسنس معطل کردیا
’دی وائر‘ کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ میں ناموں کی شمولیت کے خلاف دائر اپیلوں کی تعداد ان حلقوں میں زیادہ ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بلند ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اپیلیں بڑی تعداد میں ایسے ووٹروں کے خلاف دائر کی گئی ہیں جن کے نام عدالتی جانچ کے بعد ووٹر لسٹ میں برقرار رکھے گئے تھے۔ ۱۶؍ستمبر کو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر سے متعلق ٹریبونلوں میں مجموعی طور پر۳۸ء۳۱؍ لاکھ اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ ان میں سے۲۲ء۲۱؍ لاکھ اپیلیں ان ووٹروں کی جانب سے تھیں جن کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کئے گئے جبکہ۱۶ء۱۰؍ لاکھ اپیلیں ایسے ووٹروں کے ناموں کی شمولیت کے خلاف الیکشن کمیشن کی تھیں جنہیں فہرست میں برقرار رکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، مسلم آبادی والے حلقوں میں ایسی اپیلوں کا تناسب زیادہ دیکھا گیا۔ مرشدآباد، اتر دیناج پور اور بیربھوم میں بھی بڑی تعداد میں اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ اعداد و شمار کے تجزیہ میں ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے کی اپیلوں اور حلقوں میں مسلم آبادی کے تناسب کے درمیان مضبوط تعلق نظر آیاہے۔ رپورٹ کے مطابق۶۰؍ فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے حلقوں میں ہر۱۰۰؍ ووٹر کے مقابلے میں ایسی ۷ء۵۸؍ اپیلیں دائر کی گئیں جبکہ۲۰؍فیصد سے کم مسلم آبادی والے حلقوں میں یہ شرح۰ء۸۰؍ رہی۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار سے کسی مخصوص ارادے یا نیت کا براہ راست ثبوت نہیں مانے جاسکتے۔
رپورٹ کے مطابق۲۶ء کے اسمبلی انتخابات میں ۲۶؍ حلقوں میں ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد انتخاب میں کامیابی کے فرق سے زیادہ ہے۔ ان حلقوں میں مسلم آبادی کا اوسط تناسب۳۵ء۶؍ فیصد ہے۔ ان میں ۱۲؍حلقوں میں ترنمول کانگریس، ۱۱؍ میں بی جے پی اور تین میں دیگر جماعتوں نے کامیابی حاصل کی۔