• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ڈی اے نے پونے میں سپلا کے گودام کا لائسنس معطل کردیا

Updated: October 04, 2026, 11:26 AM IST | Pune

محکمہ کے مطابق یہ کارروائی غلط لیبلنگ، ادویات کی ذخیرہ اندوزی اور حفظان صحت کی خلاف ورزیوں کے الزامات کےتناظر میں کی گئی ہے۔

The FDA did not accept Cipla`s explanation. Photo: INN
ایف ڈی اے نے سپلا کی وضاحت قبول نہیں کی۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے دوا ساز کمپنی سپلا فارما اینڈ لائف سائنسز لمیٹڈ کے پونے میں واقع واڈکی گودام کا دوائیوں کی فروخت اور تقسیم کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ یہ کارروائی غلط لیبلنگ، ادویات کی ذخیرہ اندوزی اور حفظان صحت کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بعد کی گئی۔ یہ کارروائی ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کی نگرانی میں اور بامبے ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد کی گئی۔ ایف ڈی اے کی کارروائی کی ایک اہم وجہ ری ایکٹن پلس دواکی لیبلنگ بتائی گئی ہے جو شیڈول ایچ کی دوا ہے اور جسےڈاکٹرکی پرچی کے بغیر فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ 
گودام میں اسٹوریج اورصاف صفائی کی خامی 
ایف ڈی اےکے مطابق اس دوا کی پیکیجنگ میں سر درد، پٹھوں کے درد، کمر درد، جوڑوں کے درد، موچ، بدن درد اور دانت کے درد سے فوری راحت مبنی اشتہارات اور دعوے تھے۔ ایف ڈی اے کے معائنے کے دوران گودام میں دواؤں کے ذخیرہ کیلئے حفظان صحت کے ضوابط کی خلاف ورزیوں کا بھی انکشاف ہوا۔ حکام کے مطابق دواؤں کےڈبے فرش پر پڑے ہوئے تھے اور ان پر دھول جمع تھی۔ گودام میں انسپکشن بک موجود نہیں تھی جبکہ اس کا ہونا لازمی ہے۔ مزید برآں، ایک علیحدہ ’ناٹ فار سیل زون‘ میں میعاد ختم ہونے والی ادویات کو ذخیرہ کرنے کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ حکام کو بعض ادویات بشمول اینٹی بائیوٹکس کے فزیکل اسٹاک اور کمپیوٹر کے ریکارڈ میں بھی تضاد پایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اترپردیش: نفرت انگیز جرائم میں ۴؍ مسلم ہلاک، ۷۰؍ ہاف اینکاؤنٹر میں زخمی: رپورٹ

کمپنی کی وضاحت قبول نہیں کی گئی
ایف ڈی اے نے کمپنی کی وضاحت قبول نہیں کی۔ محکمہ نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھنے سے کمپنی کو دواؤں کے فزیکل اسٹوریج، حفظان صحت اور ضروری قانونی دستاویزات سے متعلق ضوابط سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوجاتا۔ تفصیلی سماعت کے عمل کو مکمل کرنے اور بامبے ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنے کے بعد یکم اکتوبر کو لائسنس منسوخ کرنے کا حتمی حکم جاری کیا گیا۔ 
تکارام منڈے نے کیا کہا؟
ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے نے کہا کہ محکمے کا مقصد نہ صرف کارروائی کرنا ہے بلکہ ادویات کی فراہمی کے سلسلے میں حفاظت، معیار اور قانونی ضوابط کی تعمیل کو بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کارروائی انصاف، شفافیت، سماعت اور معقول فیصلہ سازی کے اصولوں پر مبنی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK