Inquilab Logo

نالاسوپارہ: غیرقانونی عمارتوں کے ۸؍ہزار مکینوں کو راحت

Updated: July 11, 2024, 2:31 PM IST | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ نے مکان خالی کرنے کے نوٹس پر روک لگادی ،موسم باراں کے اختتام تک مکینوں کو قیام کی اجازت دے دی۔

Buildings declared illegal by the Vasai Virar Municipal Corporation. Photo: INN
وہ عمارتیں جنہیں وسئی ویرار میونسپل کارپوریشن نے غیرقانونی قرار دیا ہے۔ تصویر: آئی این این

نالا سوپارہ کے اگروال نگر میں آباد ۴۱؍ بلڈنگوں کے ۸؍ ہزار مکینوں کو اس وقت بڑی راحت مل گئی جب بامبے ہائی کورٹ نے شہری انتظامیہ کے ذریعہ غیرقانونی قرار دی گئی ان کی  عمارتوں کوخالی کرنے کے نوٹس پر روک لگا دی ۔ بامبے ہائی کورٹ نے مکینوں کے حق میں عارضی فیصلہ سناتے ہوئے موسم باراں کے پیش نظر ۳؍ماہ تک مکان خالی نہ کرانے کا حکم جاری کیا ہے ۔
 نالا سوپارہ مشرق میں واقع اگروال نگر کی  ۴۱؍ عمارتوں کو وسئی ویرار کارپوریشن نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا تھا۔ ان عمارتوں کے  ۸؍ ہزار مکینوں کو مکان خالی کرنے کاحکم دیا گیا تھا۔ اس نوٹس کے خلاف چند مکینوں نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔اس ضمن میں شہری انتظامیہ نے کورٹ کو بتایا کہ مذکورہ بالا زمینوں پر بلڈر نے غیر قانونی قبضہ کرکے عمارت بنائی ہے جبکہ وہ زمین عوامی تعمیرات کیلئے ریزرو ہے ۔وہیں ایک قطعہ اراضی کے مالک اجئے شرما نے بھی اپنی زمین پر قبضہ ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے اس ضمن میں رٹ پٹیشن داخل کرنے کی بھی اطلاع دی ہے ۔کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ بالا جن زمینوں پر غیر قانونی عمارت تعمیر کی گئی ہے وہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ڈمپنگ گراؤنڈ کے لئے مختص تھی ۔ کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ ۲۰۰۶ء میں سابق کارپوریٹر سیتا رام گپتا اور اس کے بیٹے ارون گپتا نے اس زمین پر ۲۰۱۰ء تا ۲۰۱۲ء کے درمیان قبضہ کرکے ۴۱؍ غیر قانونی بلڈنگیں تعمیر کی تھیں اور انہیں فروخت کیا تھا۔ وہیں اب وسئی ویرار میونسپل کارپوریشن نے ان غیر قانونی عمارتوں میں رہنے والوں کو نوٹس جاری کرکے مکان خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔دوران سماعت کورٹ نےجہاں شہری انتظامیہ کے نوٹس پر روک لگا دی ۔ وہیں یہ فرمان بھی جاری کیا کہ موسم باراں میں آئندہ تین ماہ تک مکینوں کو مکان خالی کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔
اس سلسلہ میں مذکورہ بالا علاقے میں رہنے والے ۶۴؍ سالہ مکین حنیف خان نے کہا’’ ۱۵؍ سال قبل میں نے ۳۳۰؍ اسکوائر فٹ کا مکان خریدا تھا ۔ اب اگر مکان خالی کرنے کو کہا جائے گا تو ہم اسی شرط پر مکان خالی کریں گے جب ہمیں اس کی قیمت ادا کی جائے گی یااس کےعوض متبادل مکان دیا جائے ۔بصورت دیگرے ہم سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔‘‘ ۴۳؍ سالہ آئی ٹی انجینئر مکیش سولنکی جو اپنی بیوی اور دو بچیوں کے ساتھ رہتے ہیں ، نے کہاکہ ’’ ہم نہ صرف پراپرٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں بلکہ وسئی ویرار میونسپل کارپوریشن کو دیگر ٹیکس بھی دیتے ہیں اس کے باوجود ہمیں مکان خالی کرنے کا نوٹس دیا جارہا ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK