نپور شرما اور نوین جندل کیخلاف مسلمانوں کا ملک گیر احتجاج

Updated: June 11, 2022, 9:39 AM IST | new Delhi

دہلی ، ممبئی ، کولکاتا ، لکھنؤ، حیدر آباد، بنگلور، الٰہ آباد اور دیگر شہروں میں نماز ِجمعہ کے بعد مسلمانوں کا غیرمنصوبہ بند اور کسی قائد کے بغیر احتجاج ، جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بھی مظاہرہ

Demonstrating peacefully in Hyderabad, they demanded the arrest of BJP leaders Napur Sharma and Naveen Jundal. (Photo: PTI)
حیدر آباد میں پرامن مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی لیڈران نپور شرما اور نوین جندل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔(تصویر: پی ٹی آئی )

بی جے پی کی سابق ترجمان نپور شرما اور بی جے پی لیڈر نوین کمار جندل کے ذریعے پیغمبر اسلامؐ کی شان میںگستاخی کے خلاف مسلم ممالک کے احتجاج درج کرانے کے بعد کئی دنوں سے اپنے غصے اور احتجاج کو ضبط کررہے مسلمانوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور انہوں نے جمعہ کو بعد نماز کئی شہروں میں ایک ساتھ احتجاج کیا۔ اس احتجاج نے حکومت کے ساتھ ساتھ  بی جے پی اور گودی میڈیا کے  ہوش اڑادئیے ہیں کیوں کہ یہ احتجاج نہ صرف پرامن رہا بلکہ اس کی قیادت بھی کوئی نہیں کررہا تھا ۔ مسلم قیادت اور علماء نے اس سلسلے میں پہلے ہی متنبہ کردیا تھا کہ مسلمان احتجاج نہ کریں بلکہ جمہوری طریقے سے اپنی ناراضگی درج کروائیں لیکن جمعہ کو بعد نماز جمعہ  دہلی ، ممبئی ، احمد آباد، الٰہ آباد، لکھنؤ، حیدر آباد، بنگلور، رانچی سمیت کئی شہروں میں ایک ساتھ احتجاج کرتے ہوئے نپور شرما اور نوین جندل کی گرفتاری کا مطالبہ دہرایا گیا۔ 
کسی قیادت کے بغیر اتنے بڑے مظاہرے 
  میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کی نماز کے بعد ملک کے کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے اور  نپور شرما اور نوین جندل کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ اس دوران مظاہرین کو قابو میں کرنے کے لئے پولیس کی بڑی تعداد موجود تھی لیکن کہیں پر بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اکا دکا  جگہوں پر، تشدد کے نہایت معمولی واقعات ضرور ہوئے لیکن مجموعی طور پر احتجاج پرامن رہا اور مسلمانوں کے ذریعے برسراقتدار پارٹی کو واضح طور پر ناراضگی کا پیغام گیا۔ واضح رہے کہ مسلم قائدین اور علماء نے اپنے بیانات اور اعلانات کے ذریعہ لوگوں کو یہ باور کرانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج نہ کریں اور نماز سے فارغ ہو کر سیدھے گھر جائیں۔ کئی شہروں میں ایسا بھی ہوا  لیکن متعدد شہروں میں مسلمانوں نے نماز کے بعد  نعرے بازی کی۔
جامع مسجد کی سیڑھیوں پر احتجاج 
  دہلی کی جامع مسجد کے اطراف بازار کھلے تھے اور روز کی طرح وہاں چہل پہل بھی نظر آئی لیکن جمعہ کی نماز کے بعد  جامع مسجد کی سیڑھیوں پربڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں نے   نعرے بازی کی۔ تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ صورت حال قابو میں ہی رہی  کیوں کہ کسی نے بھی ہدایات کی اندیکھی نہیں کی بلکہ پرامن طریقے سے صرف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کروایا۔  
امام بخاری کی وضاحت
 دریں اثناءجامع مسجد کے امام احمد بخاری نے کہا کہ مسجد کی جانب سے مظاہرہ کی کوئی کال نہیں دی گئی تھی اور انہیں نہیں معلوم کہ مظاہرین کا تعلق کس جماعت یا تنظیم سے ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جامع مسجد کی سیڑھیوں پر جمع ہونا اور پھر پرامن طریقے سے مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرنا ظاہر کرتا ہے مسلم قوم میں بی جے پی لیڈران کے خلاف کس قدر ناراضگی اور غصہ ہے اور اب تک یہ غصہ دبا ہوا تھا لیکن اب پھوٹ پڑا ہے۔ 
یوپی کے کئی شہروں میں مظاہرے
 یوپی میں راجدھانی لکھنؤ کے علاوہ الٰہ آباد، سہارنپور، مرادآباد، دیوبند  اور دیگر شہروں میں مسلمانوں نے مظاہرہ کیا اور نپور شرما و نوین جندل کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جبکہ تمام شہروں کی مساجد کے ائمہ نے احتجاج نہ کرنے اور بند نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران مطاہرین نے فلک شگاف نعرے بازی کی۔ دیوبند میں پولیس کی جانب سے کچھ مظاہرین کو حراست میں لیا گیا لیکن وہاں حالات پرامن ہی رہے ۔مراد آباد سے بھی مظاہرہ کی اطلاع موصول ہوئی۔ مغل پورہ علاقہ میں نماز جمعہ کے بعد اچانک لوگ جمع ہو گئے اور  شہر کے مصروف ترین چوراہے پر پہنچ کر نعرے بازی کرنے لگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK