• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نتن یاہو ایک منٹ بھی اسرائیلی وزیراعظم رہنے کا اہل نہیں، استعفے کا مطالبہ

Updated: September 10, 2026, 12:44 PM IST | Agency | Tel Aviv

اس خبر کے بعدکہ اسرائیلی وزیر اعظم کو حماس کے حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، اسرائیلی اپوزیشن جماعتیں ان پر شدید برہم ہیں۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے اسرائیلی صہیونی وزیراعظم نتن یاہو کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ اسرائیلی اخبارکی جانب سے  اپنےصحافیوں کی شائع ہونے والی کتاب کے ایک اقتباس پر مبنی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے سے  پہلے نتن  یاہوکو خبردار کر دیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان نے حملے سے ڈیڑھ ہفتہ قبل نتن یاہو سے بات کی تھی اور انہیں آگاہ کیا تھاکہ حماس بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے موجودہ وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو پر ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے سے پہلے ملنے والے انتباہات کے معاملے میں مجرمانہ غفلت کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یمن: فوجی کشیدگی کے نتیجے میں ایک ہی دن میں ۱۴۰۰؍ خاندان بے گھر

ان کا کہنا ہے کہ واضح انتباہات کے باوجود نتن یاہو نے سیکوریٹی  چیفس کو آگاہ نہیں کیا اور ملک کو اس صورتحال کے لیے تیار نہیں کیا۔ آنے والے انتخابات میں نتن یاہو کے حریف بینیٹ نے اسرائیلی اخبار ہارٹز کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حملے سے چند روز قبل متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر محمد بن زاید نے نتن یاہو کو حماس کے منصوبوں کے بارے میں ذاتی طور پر خبردار کیا تھا۔ بینیٹ نے ایکس پر عبرانی زبان میں لکھاکہ صبح سامنے آنے والی یہ رپورٹ درست ہے کہ نتن یاہو کو ۷؍اکتوبر کے قتل عام سے ۱۰؍دن پہلے حماس کے غزہ کے رہنما یحییٰ سنوار کے ارادوں کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ نتن یاہو ذاتی اور براہ راست طور پر اس ناکامی کے ذمہ دار ہیں جس کے نتیجے میں ان کے دور اقتدار میں ہزاروں اسرائیلی ہلاک ہوئے، وہ اس عہدے کیلئے اہل نہیںرہ گئے ہیں۔  ہارٹز کی تحقیقات کے مطابق یو اے ای کے لیڈر نے نتن یاہو کو واضح طور پر بتایا تھا کہ سنوار اسرائیل کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب  یاہو کے دفتر نے ان کی  یو اے ای کے صدر  کے ساتھ ملاقات یا بات چیت کی تردید کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK