نیوزی لینڈ میں سکھوں کے پریڈ میں دائیں بازو کے عیسائی گروہ نے رکاوٹ ڈالی، نعرے لگائے اور ہاتھوں میں پوسٹر اٹھائے جس میں لکھا تھا کہ ’’یہ نیوزی لینڈ ہے، ہندوستان نہیں۔‘‘
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 7:01 PM IST | Wellington
نیوزی لینڈ میں سکھوں کے پریڈ میں دائیں بازو کے عیسائی گروہ نے رکاوٹ ڈالی، نعرے لگائے اور ہاتھوں میں پوسٹر اٹھائے جس میں لکھا تھا کہ ’’یہ نیوزی لینڈ ہے، ہندوستان نہیں۔‘‘
نیوزی لینڈ میں مقامی عیسائی چرچ سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے مذہبی گروہ نے تین ہفتوں کے اندر دوسری بار سکھوں کے پریڈ میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ گرو گوبند سنگھ کے جنم دن کے موقع پر منعقد کئے گئے سالانہ نگر کیرتن (مذہبی جلوس) میں رکاوٹ ڈالنے پر امرتسر کی شرومانی گرودوارا پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) سمیت کئی سکھ تنظیموں نے اس کی مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’نکولس مادورو بلند حوصلہ کے ساتھ صورتحال کا سامنا کررہے ہیں‘‘
یہ واقعہ آکلینڈ سے ۲۲۵؍ کلو میٹر دور واقع شہر تاؤرانگا میں پیش آیا۔ جلوس ۱۱؍ بجے گرودوارا سکھ سنگت ٹیمپل سے شروع ہوا اور کیمرون روڈ سے تاؤرانگا بوائز کالج کی طرف جا رہا تھا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود ایک مقامی چرچ اور سیاسی لیڈر برائن تماکی کے ڈیسٹینی چرچ سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں کے ایک گروہ کی جانب سے رکاوٹ ڈالی گئی، جو کہ ایک بنیاد پرست مذہبی گروہ ہے۔ رکاوٹیں ڈالنے والوں نے مقدس گیت گاتے ہوئے سکھوں کے جلوس کے سامنے ’’ہکا‘‘ کا مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نعرہ بھی لگا رہے تھے اور انہوں نے ہاتھوں میں بینرز تھام رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’’یہ نیوزی لینڈ ہے، ہندوستان نہیں۔‘‘ تاہم پولیس انہیں وہاں سے لے گئی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
Jarring scenes of a Sikh nagar kirtan procession being disrupted in New Zealand`s Auckland on 20 December by members of True Patriots of NZ, a group affiliated with Brian Tamaki`s Destiny Church, flooded social media recently. Slogans like “One True God” were shouted while young… pic.twitter.com/TCaDg7ZyHO
— The Quint (@TheQuint) January 8, 2026
سیاسی لیڈر برائن تماکی نے ایکس پر رکاوٹ ڈالنے کا ایک ویڈیو شیئر کیا جس کے کیپشن میں لکھا کہ ’’کس کی گلیاں؟ کیوی گلیاں۔ سچے محب وطن پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔‘‘ کیپشن میں مزید لکھا کہ ’’آج تاؤرانگا میں ہمارے سچے محبین وطن نے ہکا کے ذریعے سکھوں کی پریڈ کا جواب دیا۔۔۔ یہ تشدد نہیں، خاموشی نہیں، بلکہ پرامن دفاع ہے۔ ہماری گلیوں میں ہمارا نعرہ گونج رہا تھا: کس کی گلیاں؟ ہماری گلیاں۔ کس کی گلیاں؟ کیوی گلیاں۔‘‘