• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’نکولس مادورو بلند حوصلہ کے ساتھ صورتحال کا سامنا کررہے ہیں‘‘

Updated: January 12, 2026, 2:03 PM IST | Agency | Caracas/Washington

امریکہ میں قید وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے بیٹے نکولس مادوروگویرا نے کہا کہ ان کے والد صحتمند ہیں اور خاندان کسی مایوسی میں مبتلا نہیں ہے۔

Nicolás Maduro Guerra, son of Venezuelan President Nicolas Maduro. Photo: INNPicture: INN
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے بیٹے نکولس مادوروگویرا۔ تصویر: آئی این این

امریکہ میں زیر حراست وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اپنے اہل خانہ کے ذریعے خیریت اور مضبوط حوصلے کا پیغام دیا ہے جبکہ دوسری جانب وینزویلا میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور واشنگٹن سے سفارتی رابطوں کی بحالی کے اشارے بھی سامنے آرہے ہیں۔غیرملکی رپورٹوں کے مطابق امریکہ کے شہر بروکلین کی جیل میں قید وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے صاحبزادے اور قومی اسمبلی کے رکن نکولس مادورو گویرا نے بتایا ہے کہ ان کے والد صحت مند ہیں اور کسی قسم کے غم یا کمزوری کا شکار نہیں۔ انہوں نے سنیچر کی شب جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ وکلاء کے ذریعے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صدر مادورو بلند حوصلے کے ساتھ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ نکولس مادورو گویرا کا کہنا تھا کہ ان کے والد کے ساتھ ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز بھی ثابت قدم ہیں اور خاندان کسی مایوسی میں مبتلا نہیں۔ ان کے بقول، ہم خیریت سے ہیں اور جدوجہد جاری رکھیں گے۔اسی دوران وینزویلا میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ برقرار ہے۔ حالیہ رہائیوں میں اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کی جماعت کے ایک رکن کی رہائی بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات امریکی فوج کی جانب سے صدر مادورو کی گرفتاری کے تقریباً ایک ہفتے بعد دیکھنے میں آئے ہیں۔ اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ مادورو کی گرفتاری کے باوجود سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان عبوری حکام کے ساتھ رابطے برقرار رکھے جنہوں نے بعد ازاں اقتدار سنبھالا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت شروع ہو چکی ہے، جو ۲۰۱۹ء میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں منقطع ہو گئی تھی۔وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس نے اعلان کیا کہ امریکی سفارت کاروں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں واشنگٹن نے تصدیق کی کہ امریکی سفارتی وفد نے کاراکاس کا دورہ کیا تاکہ سفارت خانے کی ممکنہ بحالی پر تبادلۂ خیال کیا جاسکے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ وفد طے شدہ شیڈول کے مطابق اسی روز واپس روانہ ہو گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عبوری انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے متعدد مواقع پر اس امر کا اعادہ کیا کہ امریکہ وینزویلا کے تیل میں دلچسپی رکھتا ہے اور مادورو کی معزولی کے بعد اس شعبے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کے تحفظ کے لیے ایک انتظامی حکم نامہ بھی جاری کیا گیا۔ادھر وینزویلا کی عبوری صدر دلسے رودریگیز نے امریکہ کے ساتھ تیل کے شعبے میں تعاون کا عندیہ دیا ہے، تاہم انہوں نے واشنگٹن کے سامنے جھکنے سے انکار پر زور دے کر اپنے حامیوں کو متحرک رکھنے کی کوشش بھی کی۔ انسانی حقوق کی تنظیم فورو بینال کے مطابق وینزویلا کی حکام نے پانچ افراد کو رہا کیا ہے، جن میں بولیوار ریاست سے پارٹی بینتی وینزویلا کے یوتھ کوآرڈینیٹر بیرخیلیو لاپیرڈی شامل ہیں۔ یہ رہائیاں اپوزیشن کے اُن مطالبات کا حصہ تھیں جو رواں ماہ تین جنوری کو مادورو کی گرفتاری کے بعد سامنے آئے تھے۔ قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگز نے چند روز قبل عندیہ دیا تھا کہ امن کے اشارے کے طور پر بڑی تعداد میں قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK