آندھرا اورتلنگانہ میں۲۳؍مقامات پر این آئی اے کے چھاپے

Updated: September 19, 2022, 12:30 PM IST | Agency | Hyderabad

آندھرا پردیش کےکرنول، نیلور، کڈپا، گنٹور اور تلنگانہ کے نظام آباد میںپی ایف آئی سے منسلک افراد سے تفتیش،کچھ کو نوٹس دے کر آج اپنے دفتر میں طلب کیا

NIA officers can be seen inspecting a PFI hideout during a raid..Picture:INN
پی ایف آئی کے ایک ٹھکانے پر چھاپے کے دوران این آئی اے کے افسران جائزہ لیتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں ۔ تصویر:آئی این این

نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)نےاتوار کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)سےمتعلق معاملات میںآندھرا پردیش اورتلنگانہ میںکئی مقامات پر چھاپے مارے۔این آئی اےنے آندھرگ پردیش کےکرنول، نیلور، کڈپا، گنٹور اور تلنگانہ کے نظام آباد میں مشتبہ افراد کے گھروں اور کاروباری مقامات کی تلاشی لی۔ رپورٹ کے مطابق ایجنسی نےپی ایف آئی کے کئی لیڈروںکے۲؍ درجن سےزائد مقامات پر چھاپے مارے۔ خصوصی ٹیموں نےنظام آباد کے اے پی ایچ بی کالونی علاقہ میں پہنچ کرشہید چوش عرف شاہد کے گھر پر چھاپہ مارا۔ انہیںسی آرپی سی کی دفعہ ۴۱(اے)کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ایجنسی کی تفتیش دہشت گردی کے ذرائع کا پتہ لگانےکے سلسلے میں تھی۔ این آئی اے کی حیدرآباد برانچ نے۲۶؍ اگست کو پی ایف آئی سے متعلق ایک کیس درج کیا تھا۔ این آئی اے کے ذریعہ ایف آئی آر میں نظام آباد کے آٹو نگرکے رہنے والے ۵۲؍ سالہ عبدالقادرسمیت۲۶؍افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا کہ اس نے دوسروں کے ساتھ مل کر مرکزی  حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کی۔
’سازش کے تحت پی ایف آئی ممبران کی بھرتی‘
 ایف آئی آرکےمطابق، انہوں نے مجرمانہ سازش کے تحت پی ایف آئی کے اراکین کو بھرتی کیا۔ دہشت گردی کی تربیت کے لیے کیمپ لگائے۔اس نےغیر قانونی اجتماع کا اہتمام کیا اور مختلف گروہوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر دشمنی کو فروغ دیا۔ یہ لوگ ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھےجو ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو متاثر کرتی ہیں۔
ملک دشمن سرگرمیوں پر مقدمہ درج
 اس سے قبل تلنگانہ کے نظام آباد پولیس اسٹیشن میںتعزیرات ہند کی مختلف دفعات اوردہشت گردی مخالف قانون  یو اے پی اےکےتحت مقدمہ درج کیاگیاتھا۔ اس میں عبدالقادر سمیت ۲۶؍افرادکے خلاف ملک دشمن سرگرمیوں کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تلنگانہ پولیس نےگھر کی تلاشی کے دوران بانس کی لاٹھیاں،سفید تختیاں، نان چک، ایک پوڈیم، نوٹ بکس، ہینڈ بک اور دیگر مواد ضبط کرلیا۔ایف آئی آر میں کہا گیاہے کہ پی ایف آئی کے اراکین نے کراٹے کی تربیت کےنام پر نوجوانوں کےلئے کوچنگ اور کسرت شروع کیا ہے اور انہیں ایک مخصوص طبقے کے خلاف انہیں نفرت بھری تقریروں کے ذریعہ اکسایا جاتا ہے۔ عہدیداروں  نے تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں ایک مکان پر بھی چھاپہ مارا اور ایک شخص کو پیر کو حیدرآباد میں این آئی اےکے دفتر میں حاضر ہونے کا نوٹس جاری کیا۔ان تلاشیوں کے دوران افسران نے پہلے ہی پی ایف آئی کےضلع کنوینر شاد اللہ، اور ممبران محمد عمران اور محمد عبدالمبین کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیاہے۔ان سے کراٹےسکھانے کی آڑ میں تشدد اور غیر قانونی سرگرمیوں/ تربیت  پر اکسانے کے تعلق سے تفتیش کی جا رہی ہے۔جب نندیال اور کرنول میں این آئی اے کی تلاشی جاری تھی، کئی مقامی لوگوں نے وہاں پہنچنے والےاہلکاروں کے خلاف احتجاج کیا اور ان سے واپس جانے کے لیے نعرے لگائے۔
نظام آباد میں تلاشی
 تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں بھی تلاشی جاری ہے۔ این آئی اے کے اہلکاروں نے شاہد چوسیح کے طور پر شناخت کیے گئے ایک شخص کے گھر کی تلاشی لی ہے اور اس کاپاسپورٹ اور بینک پاس بکس ضبط کر لی ہے۔انہیں پیر کو حیدرآباد این آئی اےکے دفتر آنے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ جس کے گھر پر چھاپا مارا گیا تھا اس نے کہا کہ  ’’انہوںنے۲؍ فون، ایک پاسپورٹ، اور بینک پاس بک ضبط کرلی ہے،لین دین کا جائزہ لیا اور پوچھاکہ کیا میں انہیں کچھ بتاناچاہتا ہوں، جس پر میں نےجواب دیا کہ میں ایک سروس سینٹر چلاتا ہوں۔اس سے آگے انہوں نےاورکچھ نہیں پوچھا۔ انہوں نے مجھے حیدرآباد این آئی اے کے دفتر آنے کو کہا اور ایک نوٹس دیا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK