Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں سیاسی تبدیلیوں کا یوپی پر کیا اثر پڑیگا؟

Updated: March 12, 2026, 10:51 AM IST | Ashish Mishra | Mumbai

دونوں ریاستوں میں کئی بڑے ذات پات کے گروہ ایک جیسے ہیں اور ان کے درمیان مستقل روابط ہیں۔اسی سبب مشرقی اترپردیش میں بہار کی سیاسی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا جاتا ہے۔

Yogi Adityanath.Photo:INN
یوگی آدتیہ ناتھ۔ تصویر:آئی این این
بہار کی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی راجیہ سبھا جانے کی تیاریوں اور بہار میں قیادت کی ممکنہ تبدیلی کے پیش نظر بی جے پی کے اندر نیا سیاسی حساب کتاب شروع ہوگیا ہے۔خاص طور پر، بہار کو بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ ملنے کے امکان کو صرف بہار تک ہی محدود فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا ہےبلکہ سمجھا جارہا ہےکہ اتر پردیش پر بھی اس کے بڑے سیاسی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اگلے سال اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی مسلسل تیسری میعادکیلئے اقتدار برقرار رکھنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ بی جے پی کے ماہرین بہار میں قیادت کی تبدیلی اور ایک ممتاز او بی سی لیڈر کے ممکنہ طور پر ابھرنے کو سماجی توازن قائم کرنے کا ایک اہم موقع سمجھتے ہیں۔ اس دوران راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے بھی اتر پردیش میں اپنے تنظیمی ڈھانچے سے متعلق غور کرنا شروع کردیا ہے۔
یوپی میںسنگھ کی ۶؍ علاقائی اکائیوں کی رابطہ میٹنگ حال ہی میں شروع ہوئی ہے جس میں ذات پات کی بنیاد پر سیاسی مساوات و رجحانات کا جائزہ لینا ایک اہم ایجنڈا ہے۔ ان میٹنگوں میں بی جے پی کے ریاستی عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے۳؍ مارچ کو گورکھپور میں منعقدہ گورکھپور صوبہ رابطہ میٹنگ میں شرکت کی، جس میں تنظیم کے جنرل سیکریٹری دھرم پال، صوبائی پرچارک رمیش اور آر ایس ایس کے دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد بدلتی ہوئی سماجی مساوات کو سمجھنا اور۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل تنظیمی حکمت عملی کو اس کے مطابق ڈھالنا بتایا جاتا ہے۔ 
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی جے پی اب نہ صرف ترقی اور قوم پرستی پر توجہ مرکوز کرنے کی تیاری کر رہی ہے بلکہ زیادہ منظم طریقے سے ذات پات کے موضوع کو متوازن کرنے پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ درحقیقت، گزشتہ چند مہینوں سے اتر پردیش کی سیاست میں ذات پات کی بنیاد پر عدم اطمینان کی فضا پائی جارہی ہے۔ برہمن برادری کے اندر ناراضگی ہے، کچھ او بی سی گروپس بھی بی جےپی سے دوری بناتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ لوک سبھا انتخابات میں ناقص کارکردگی پر بی جے پی نے خود احتسابی کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ ان سماجی مساوات کو متوازن کئے بغیر۲۰۲۷ء کے انتخابات اتنے آسان نہیں ہوں گے جتنے کہ ۲۰۱۷ء یا ۲۰۲۲ء کے تھے۔ اس پس منظر میں بی جے پی اپنے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
ریاستی صدر پنکج چودھری مارچ کے آخر تک پارٹی کے ریاستی عہدیداروں کی نئی ٹیم تشکیل دینے کاکام کر رہے ہیں ۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار نئی ٹیم علاقائی توازن کے بجائے ذات پات کی نمائندگی پر زیادہ توجہ دے گی۔ اس تبدیلی کا اشارہ حال ہی میں اس وقت دیا گیا جب پارٹی نے۱۱؍ اضلاع کے صدور کا اعلان کیا تھا۔ اس فہرست میں ایک اضافی کالم کا اضافہ کیا گیا تھا، جس میں ہر مقرر کردہ اہلکار کی ذات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ کشیپ، برہمن، ٹھاکر، پاسی، ویشیا، موریہ اور کائستھ جیسی برادریوں کی نمائندگی نشان زد کی گئی۔ ان۱۱؍ صدور میں سے ۶؍ اعلیٰ ذات کے ہیں ،۳؍ او بی سی سے ہیں اور۲؍ درج فہرست ذات کے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام محض ایک تنظیمی رسم نہیں ہے، بلکہ یہ آئندہ انتخابات کے لئے بی جے پی کی سماجی حکمت عملی کا مظہر ہے۔ لکھنؤ میں بابا صاحب امبیڈکر سینٹرل یونیورسٹی کے پروفیسر اور سیاسی تجزیہ کار سشیل پانڈے کہتے ہیں ’’بی جے پی نے طویل عرصے سے سوشل انجینئرنگ کی سیاست کی ہے لیکن اب اسے احساس ہو رہا ہے کہ مختلف ذاتوں کے گروپوں کے درمیان توازن کو زیادہ باریک بینی سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔بہار میں اگر کوئی بڑا اوبی سی لیڈر ابھرتا ہے تو اس کا اتر پردیش کے ووٹروں پر بھی نفسیاتی اثر پڑسکتا ہے۔‘‘
درحقیقت بہار اور مشرقی اتر پردیش کے درمیان سماجی اور سیاسی رشتےکافی گہرے ہیں۔ دونوں ریاستوں میں کئی بڑے ذات پات کے گروہ ایک جیسے ہیں اور ان کے درمیان مستقل خاندانی، اقتصادی اور ثقافتی روابط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی اتر پردیش کی سیاست میں بہار میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا جاتا ہے۔بی جے پی سمجھ رہی ہے کہ بہار میں او بی سی لیڈر کو چیف منسٹر بنانے سے اتر پردیش میں بھی سماجی توازن کو مضبوط کرنے کا پیغام ملے گا کیونکہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خود ٹھاکر برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق’’بہار اور اتر پردیش میں سماجی اور سیاسی طورپر غالب ذات گروپ تقریباً ایک جیسے ہیں۔ اس لیے بہار میں او بی سی کا وزیر اعلیٰ ہونے سے بی جے پی کی سماجی شبیہ بہتر ہوگی اوریہ پیغام ملےگا کہ پارٹی تمام طبقات کو یکساں نمائندگی دے رہی ہے۔
 
 
 
اس تناظر میں بہار کےنائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کا نام بھی زیر بحث ہے۔ ان کا تعلق کشواہا برادری سے ہے اور انہیں او بی سی سیاست میں بااثر سمجھا جاتا ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو دونوں میں کچھ لیڈروں کا ماننا ہے کہ اگر قیادت میں تبدیلی آتی ہے تو کرمی، کشواہا، یا انتہائی پسماندہ طبقات سے کسی لیڈر کو آگے لایا جا سکتا ہے۔ اس کا اثر اتر پردیش کے سیاسی طور پر فعال او بی سی گروپوں پر پڑ سکتا ہے۔ ان میں کشواہا، موریہ، سینی اور شاکیہ برادریاں نمایاں ہیں۔ یہ گروہ مختلف علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ سینی برادری مغربی اتر پردیش میں غالب ہے، جبکہ کشواہا اور موریہ برادریوں کو وسطی اور مشرقی اتر پردیش میں مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ بندیل کھنڈ اور برج خطے میں شاکیہ برادری کی نمایاں موجودگی ہے۔
 
 
مشرقی اتر پردیش کے کئی اضلاع میں بہار کے لوگوں کی ایک بڑی آبادی ہے۔ گورکھپور اور وارانسی جیسے شہروں میں بہار کے لوگوں کیلئے بڑی طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں ذات پات کے توازن کا مسئلہ اترپردیش کی سیاست میں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ بی جے پی میں تنظیمی تبدیلی، کابینہ میں ممکنہ توسیع اور بہار میں قیادت کی تبدیلی جیسے فیصلے ایک وسیع سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK