الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنی ملکیت پر نماز پڑھنے والے شخص کو ۲۴؍ گھنٹے تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا، حسین خان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنی، اپنے خاندان اور اپنی جائیداد کی حفاظت کی استدعا کی تھی۔
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 4:00 PM IST | Allahabad
الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنی ملکیت پر نماز پڑھنے والے شخص کو ۲۴؍ گھنٹے تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا، حسین خان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنی، اپنے خاندان اور اپنی جائیداد کی حفاظت کی استدعا کی تھی۔
الہ آباد ہائی کورٹ بدھ کو ایک مسلم شخص کے لیے دن رات سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا۔ یہ شخص، جس کا تعلق بریلی سے ہے، نے الزام لگایا تھا کہ اسے اپنی نجی جائیداد کے اندر نماز ادا کرنے سے روکا گیا۔عدالت کی ڈویژن بنچ، جس میں جسٹس سدھارتھ نندن اور جسٹس اتل سریدھرن شامل تھے، نے حسین خان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ حسیں خان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنی، اپنے خاندان اور اپنی جائیداد کی حفاظت کی استدعا کی تھی۔یہ معاملہ طارق خان کی جانب سے دائر کی گئی ایک درخواست سے پیدا ہوا، جس میں رمضان کے دوران اپنی جائیداد پر نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔عدالت نے ہدایت دی کہ حسیں خان کے ساتھ جہاں بھی وہ جائیں، دو مسلح محافظ تعینات کیے جائیں، اور یہ حکم اگلے حکم تک نافذ العمل رہے گا۔بنچ نے بریلی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) انیش سنگھ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) انوراگ آریہ کو عدالت کی اگلی تاریخ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھئے: `’مودی ہٹاؤ ، دیش بچاؤ‘ مہم، اورنگ آباد میں راستہ روکو آندولن
بعد ازاں بنچ نے کہا،’’اس عدالت کے سابقہ حکم کی تعمیل میں، ممکنہ مدعا علیہان (متضمین)، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بریلی انیش سنگھ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بریلی انوراگ آریہ، عدالت کی آئندہ تاریخ سماعت پر حاضر ہوں گے، جب فیصلہ سنایا جائے گا۔‘‘عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ اگر خان یا ان کی جائیداد کو متاثر کرنے والے تشدد کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو ابتدائی طور پر یہ ماناجائے گا کہ یہ واقعہ ریاست کی طرف سے ہوا ہے، البتہ اس قیاس آرائی کو رد کیا جا سکتا ہے۔تاہم سماعت کے دوران، عدالت نے خان کا بیان بھی درج کیا جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں ان کے گھر پر نماز ادا کرنےپر حراست میں لے لیا۔خان نے عدالت کو بتایا، ’’اس دن میں اپنے گھر پر نماز ادا کر رہا تھا۔ میرے خاندان کے افراد بھی میرے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ پولیس مجھے لے گئی اور میرے خلاف چالان جاری کر دیا۔‘‘انہوں نے مزید الزام لگایا کہ انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے عدالت میں ایک خاص طریقے سے گواہی نہ دی تو ان کا گھرمنہدم کر دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا، ’’بعد میں، عارف پٹھان اور مختار مجھ سے ملے اور کہا کہ اگر میں نے عدالت میں ان کی مرضی کے مطابق بات نہ کی تو میرے گھر پر بلڈوزر چلا دیا جائے گا۔‘‘
مزید برآں خان نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں گاؤں سے باہر لے جایا گیا اور پولیس نے زبردستی ایک تحریری دستاویز پر انگوٹھا لگوانے پر مجبور کیا، جسے وہ پڑھ نہیں سکتے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں۔مقدمے کی سماعت کی اگلی تاریخ ۲۳؍ مارچ مقرر کرتے ہوئے عدالت نے ہدایت کی کہ حکم نامے کی ایک نقل اترپردیش کے ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھیجی جائے تاکہ خان کے لیے فوری تعمیل اور تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔بنچ نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ایس پی اگلی تاریخ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ریچارج کے متعلق موبائل کمپنیوں کی من مانی کا مسئلہ راجیہ سبھا میں گونجا
واضح رہے کہ اس سے قبل فروری میں، الہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ انیش سنگھ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوراگ آریہ کو محمد گنج گاؤں میں ایک نجی رہائش گاہ کے اندر مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روکنے کے معاملے میں تضحیک عدالت (کانٹیمپٹ) کا نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ نجی احاطے میں نماز کی اجازت دینے والا اس کا سابقہ فیصلہ ابتدائی طور پر اس معاملے پر بھی نافذہوتا ہے۔